Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حج کیمپ کیلئے تین یوم باقی ، عمارت کی آہک پاشی و مرمت نظر انداز

حج کیمپ کیلئے تین یوم باقی ، عمارت کی آہک پاشی و مرمت نظر انداز

حکومت سے بجٹ کی عدم اجرائی پر رکاوٹ ، گندگی کا انبار ، دروازہ ٹوٹ گیا
حیدرآباد۔/27اگسٹ، ( سیاست نیوز) اب جبکہ حج 2015کے کیمپ کے آغاز کو صرف تین دن باقی ہیں محکمہ اقلیتی بہبود نے حج ہاوز کی عمارت کی آہک پاشی اور مرمت کا کام انجام نہیں دیا ہے۔ ہر سال حج کیمپ سے قبل حکومت عمارت کو رنگ کرنے اور مینٹننس سے متعلق تمام کاموں کی تکمیل کا وعدہ کرتی ہے لیکن کبھی بھی اس وعدہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ حج ہاوز کی عمارت کو تعمیر ہوئے 15برس مکمل ہوگئے لیکن اس طویل عرصہ کے دوران ایک بار بھی عمارت کو کلر نہیں کیا گیا جو محکمہ اقلیتی بہبود کے تساہل اور عدم دلچسپی کی کھلی مثال ہے۔ گزشتہ سال تلنگانہ حکومت نے حج ہاوز کو رنگ و روغن اور مینٹننس کے کام مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن حج سیزن کے اختتام کے بعد اس وعدہ کو بھلادیا گیا۔ ایک عوامی نمائندہ نے اپنے خرچ سے آہک پاشی اور کلر کا کام کروانے کی پیشکش کی تھی لیکن بعد میں وہ بھی خاموش ہوگئے۔ جاریہ سال حج کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں دوبارہ یہ مسئلہ زیر بحث آیا اور حکومت نے اس کام کیلئے ایک کروڑ روپئے منظور کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن آج تک یہ رقم جاری نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں حج ہاوز کی عمارت اپنی زبوں حالی کی زبان حال سے شکایت کررہی ہے۔ اب جبکہ حج کیمپ کے آغاز کو تین دن باقی ہیں عمارت کو کلر کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس طرح جاریہ سال کا حج سیزن بھی حج ہاوز کی عمارت کیلئے کوئی خوشخبری کا باعث نہیں رہے گا۔ ہر سال حج سیزن کے آغاز سے قبل ہی آہک پاشی اور کلر کا کام مکمل کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے لیکن بعد میں کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب کلرنگ کا کام شروع نہیں کیاجاسکا۔ گزشتہ 15 برسوں میں عمارت کے مینٹننس اور تزئین نو پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں عمارت کی حالت کم عرصہ میں خستہ دکھائی دے رہی ہے۔ کئی منزلوں پر بارش پانی چھتوں اور دیواروں سے اُتر رہا ہے لیکن حکام کو کوئی فکر نہیں۔ حج ہاوز کی تعمیر کے وقت باب الداخلہ پر نصب کیا گیا نقش و نگار پر مشتمل دروازہ ٹوٹ چکا ہے لیکن اسے درست کرانے کی کسی نے زحمت نہیں کی۔ حج ہاوز کی عمارت کے ہر فلور پر عدم صفائی کے سبب جگہ جگہ گندگی دکھائی دے رہی ہے اور سیڑھیوں پر پان اور گٹکھے کے نشانات واضح طور پر موجود ہیں اور سیڑھیوں سے گزرنے والا شخص بغیر ناک بند کئے گذر نہیں سکتا۔ اب جبکہ اس عمارت میں عازمین حج قیام کریں گے، ظاہر ہے کہ انہیں اسی گندگی سے گذرنا ہوگا۔ اسی دوران وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ اندرونی طور پر آہک پاشی اور فرش کی صفائی کیلئے 4لاکھ روپئے سے کاموں کا آغاز کیا گیا۔ اس رقم سے عازمین حج کے قیام سے متعلق فلورس کے بجائے عہدیداروں کے چیمبرس کے باہر آہک پاشی اور صفائی کا کام کیا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عازمین کے قیام سے متعلق فلورس کے کمروں کی صفائی پر توجہ دی جائے تاکہ اضلاع سے آنے والے عازمین کو قیام کے موقع پر کوئی دشواری نہ ہو۔ عازمین کے قیام سے متعلق کمروں میں باتھ رومس انتہائی ناقص ہیں اور ان میں پانی تو کجا نل بھی موجود نہیں، اس کے علاوہ کمروں کے دروازے کھٹکوں کے بغیر ہیں جس سے عازمین حج کے سامان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ہر سال حج کیمپ کے آغاز سے قبل وزراء اور اعلیٰ عہدیدار حج ہاوز کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں اور ماتحت عملے کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں لیکن ہر سال حج ہاوز کی عمارت کی زبوں حالی جوں کی توں برقرار رہتی ہے۔ حج ہاوز کے اطراف کھلے علاقے میں ابھی تک صفائی کا کام انجام نہیں دیا گیا۔
ڈاکٹر کے منوہر ڈائرکٹر نمس مقرر
حیدرآباد۔/27اگسٹ، ( سیاست نیوز) حکومت نے نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسس کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے ڈاکٹر کے منوہر پروفیسر و ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ جنرل میڈیسن، سپرنٹنڈنٹ ایم جی ایم ہاسپٹل ورنگل کو مقرر کیا ہے۔ پرنسپال سکریٹری ہیلت سریش چندا نے آج اس سلسلہ میں احکامات جاری کئے۔ ڈاکٹر نریندر ناتھ ڈائرکٹر نمس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر منوہر کو فوری طور پر ڈائرکٹر نمس کی ذمہ داری حوالے کردیں۔

TOPPOPULARRECENT