حج کیمپ کے مختلف کاموں کے لیے ٹنڈرس کی منظوری ، بجٹ کی عدم منظوری

حج کیمپ کے مختلف کاموں کے لیے ٹنڈرس کی منظوری ، بجٹ کی عدم منظوری اسمبلی بجٹ اجلاس سے قبل فنڈ کی اجرائی نا ممکن ، وقف بورڈ کے حکام محکمہ فینانس کے چکر لگانے پر مجبور

حج کیمپ کے مختلف کاموں کے لیے ٹنڈرس کی منظوری ، بجٹ کی عدم منظوری
اسمبلی بجٹ اجلاس سے قبل فنڈ کی اجرائی نا ممکن ، وقف بورڈ کے حکام محکمہ فینانس کے چکر لگانے پر مجبور
حیدرآباد ۔ یکم ستمبر(سیاست نیوز) حج کمیٹی کی جانب سے حج سیزن 2014 ء کے حج کیمپ کی تیاریوں کے سلسلہ میں مختلف کاموں کے ٹنڈرس کو منظوری دی گئی۔ تاہم کمیٹی کو حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی کا انتظار ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اعلان کیا کہ حکومت وقف بورڈ کا دو کروڑ روپئے کا بجٹ ایک ہی وقت میں جاری کردے گی تاکہ حج کیمپ کے انتظامات میں سہولت ہو لیکن ریاستی بجٹ کی اسمبلی میں منظوری تک یہ ممکن نہیں ہے۔ تلنگانہ اسمبلی کا بجٹ اجلاس اکتوبر میں منعقد ہوگا جس میں بجٹ کو منظوری دی جائے گی ۔ اسی دوران حج کمیٹی گزشتہ مالیاتی سال کے بجٹ سے 50 لاکھ روپئے سے محروم ہوچکی ہے۔ گزشتہ سال حکومت نے کمیٹی کیلئے دو کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا تھا ۔ تاہم تین اقساط میں فی کس 50 لاکھ روپئے جاری کئے گئے۔ اس طرح ایک کروڑ 50 لاکھ روپئے ہی جاری کئے گئے جبکہ آخری قسط جاری نہیں کی گئی ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت نے علی الحساب بجٹ کے طور پر 27 لاکھ 50 ہزار کو منظوری دی ۔ تاہم ابھی تک محکمہ فینانس سے یہ رقم جاری نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ حج کمیٹی نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ حج کیمپ کے انتظامات کے سلسلہ میں مکمل بجٹ ایک ہی وقت میں جاری کردیا جائے ۔ عبوری طور پر منظور کی گئی رقم کی اجرائی کے سلسلہ میں وقف بورڈ کے حکام محکمہ فینانس کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ مالیاتی سال 2014-15 ء میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے حج کمیٹی کے بجٹ کی منظوری کے بعد عبوری طور پر منظورہ رقم کا مکمل بجٹ میں شمار کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حج کیمپ کے اختتام سے قبل کیا تلنگانہ حکومت مکمل بجٹ جاری کردے گی ؟ اسی دوران آندھراپردیش حکومت نے حج کمیٹی کیلئے عبوری طور پر 43 لاکھ روپئے منظور کئے ہیں لیکن یہ رقم ابھی تک حج کمیٹی کے اکاؤنٹ میں نہیں پہنچی۔ حج کمیٹی کے پاس 44 لاکھ روپئے پی ڈی اکاؤنٹ میں موجود ہیں لیکن ریاست کی تقسیم کے بعد سے تمام اداروں کے پی ڈی اکاؤنٹس منجمد کردیئے گئے۔ اس طرح حج کمیٹی کا پی ڈی اکاؤنٹ بھی منجمد ہے اور حکومت کی جانب سے اکاؤنٹ کے استعمال کی اجازت کے بعد ہی اس رقم کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ حج کمیٹی کے دوسرے اکاؤنٹ میں تقریباً 12 لاکھ روپئے موجود ہیں جو روز مرہ کے اخراجات پر خرچ کئے جارہے ہیں ۔ عازمین حج سے فارم کے فی کس 300 روپئے وصول کئے جاتے ہیں جس میں ریاستی حج کمیٹی کو 50 فیصد حصہ دیا جاتا ہے جبکہ 50 فیصد سنٹرل حج کمیٹی کا شیئر ہوتا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ ہر حج کیمپ پر مجموعی خرچ 70 تا 80 لاکھ کے درمیان ہوتا ہے جس میں عازمین حج کے طعام پر 30 تا 40 لاکھ اور سپلائینگ کمپنی کے اخراجات پر تقریباً 8 لاکھ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مینٹننس ، عازمین حج کیلئے آر ٹی سی بسوں کی فراہمی اور دیگر اخراجات کی پابجائی کی جاتی ہے۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومت کی جانب سے عبوری طور پر منظورہ بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب فی الوقت حج کمیٹی کے پاس حج کیمپ کے انعقاد کیلئے درکار بجٹ موجود نہیں۔ چونکہ ٹنڈرس کی رقم حج کیمپ کے بعد ادا کی جاتی ہے لہذا اس وقت تک امکان ہے کہ حکومت بجٹ جاری کردے گی۔ عازمین حج کو حج کیمپ سے شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ منتقل کرنے کیلئے فلائیٹ کے مسافرین کی تعداد کے حساب سے روزانہ 11 تا 13 بسوں کا انتظام کیا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT