Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حج کے لیے خانگی ٹور آپریٹرس کے انتخاب پر سوالیہ نشان!کئی ٹور اینڈ ٹراویل ایجنٹس اہلیتی پیمانہ کی تکمیل سے قاصر

حج کے لیے خانگی ٹور آپریٹرس کے انتخاب پر سوالیہ نشان!کئی ٹور اینڈ ٹراویل ایجنٹس اہلیتی پیمانہ کی تکمیل سے قاصر

حیدرآباد ۔ 12 ۔ ستمبر : ( ایجنسیز ) : ایسے وقت میں جب کہ عازمین حج ادائیگی فریضہ حج کے لیے مکہ سعودی عرب روانگی میں مصروف ہیں خانگی ٹور آپریٹرس کے ایک گوشہ نے وزارت امور خارجہ کی جانب سے خانگی ٹور آپریٹرس زمرہ II کے انتخاب پر قابل تشویش سوالات اٹھائے ہیں ۔ وزارت خارجی امور نے خانگی ٹور آپریٹرس کو دو زمرہ جات زمرہ I اور  زمرہ II میں تقسیم کیا ہے ۔ عازمین حج کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے زمرہ I کے خانگی ٹور آپریٹرس کو خود کو وزارت امور خارجہ سے رجسٹرڈ کرنا ہوتا ہے اور خدمات کی فراہمی کا کم از کم سات سالہ تجربہ ضروری ہے ۔ دوسری جانب زمرہ II کے خانگی ٹور آپریٹرس کو بھی خود کو وزارت امور خارجہ سے رجسٹرڈ کرنے کے علاوہ ایک تا چھ سالہ عملی تجربہ ہونا چاہئے ۔ حج سال برائے 2015 کے لیے وزارت خارجی امور نے زمرہ I کے تحت 20 خانگی ٹور آپریٹرس اور زمرہ II کے تحت 53 خانگی ٹور آپریٹرس کو قطعیت دی تاہم چند ٹراویل ایجنٹس کی ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جو کہ بحیثیت سفری ایجنٹ کوئی پچھلا تجربہ نہیں رکھتے جب کہ ان کا زمرہ II میں بحیثیت خانگی ٹور آپریٹرس انتخاب عمل میں آیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ دیوان دیوڑھی میں ایک کپڑوں کی دکان کو راتوں رات پرائیوٹ ٹور آپریٹر کے دفتر میں تبدیل کردیا گیا ۔ ذرائع نے شہر میں مزید دو اسی طرح کی مثالیں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اسٹامپ وینڈر نے اچانک اپنا سائن بورڈ خانگی ٹور آپریٹر کی حیثیت سے تبدیل کردیا جب کہ ٹور آپریٹر بن جانے والے ایک شخص چھوٹی سی دکان میں بیاگس فروخت کیا کرتے تھے ۔ بسم اللہ ٹورس اینڈ ٹراویلس کے مالک حبیب قلی جو کہ ایک رجسٹرڈ خانگی ٹور آپریٹر ہیں کے مطابق ایسے نصف درجن پی ٹی اوز پرائیوٹ ٹور آپریٹرس ہیں جو خانگی ٹور آپریٹرس کے اہلیتی پیمانے کی تکمیل نہیں کرتے ۔ انہوں نے ٹور آپریٹرس درخواست فارم کے ساتھ وزارت خارجی امور کے صراحت کردہ درکار دستاویز کی فہرست بتاتے ہوئے کہا کہ کئی لوگ ہیں جو حانگی ٹور آپریٹرس کا تجربہ نہیں رکھتے اور کس طرح سے ان کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں کچھ تو غلط ہورہا ہے ۔ چند دیگر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حج خانگی ٹور آپریٹرس کے لیے درخواست گذاروں کو سالانہ اقل ترین آمدنی ایک کروڑ کے صداقت نامہ کو داخل کرنا ضروری ہے اس کے ساتھ مکہ مدینہ میں رہائشی ثبوت اور دفتر کے فلور پلان کا ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے ۔ ایک ٹراویل ایجنٹ نے بتایا کہ چند ایسے خانگی ٹور آپریٹرس ہیں جو کہ اپنے دیگر تجارتی سرگرمیاں رکھتے ہیں آیا انہوں نے فلور پلان کو داخل کیا ہوگا ؟ ٹراویل ایجنٹ نے بتایا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایک شب وہ ایک کاروبار میں مشغول رہتے ہیں اور پھر دوسرے دن ہی وہ ایک رجسٹرڈ ٹور آپریٹر بن جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے دو کیس دیوان دیوڑھی میں پیش آچکے ہیں ۔ بسم اللہ ٹورس اینڈ ٹراویلس کے پروپرائٹر قلی نے بتایا کہ اسی طرح کے واقعات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے انہوں نے رائیٹ ٹو انفارمیشن قانون حق معلومات کے تحت حقائق جاننے درخواست داخل کی ہے اور توقع رکھتا ہوں بہت جلد مجھے جواب موصول ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی توقع رکھی گئی تھی کہ زمرہ II کے تحت تلنگانہ سے تین ، آندھرا پردیش سے دو خانگی ٹور آپریٹرس کا انتخاب ہوگا اس کے ساتھ دیگر ریاستوں سے دو پی ٹی اوز کا انتخاب ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2016 کے لیے دو خانگی ٹور آپریٹرس کا انتخاب عمل میں آیا جب کہ ان میں ایک کے دفتر کا اتہ پتہ نہیں ہے ۔ وزارت خارجی امور حج سیل کے ڈپٹی سکریٹری بھوپیندر سنگھ خانگی ٹور آپریٹرس کے انتخاب میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں پر تبصرے کے لیے دستیاب نہ ہوسکے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT