Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / حج ہاؤز سے متصل کامپلکس کو 30 سالہ لیز پر دینے کا فیصلہ

حج ہاؤز سے متصل کامپلکس کو 30 سالہ لیز پر دینے کا فیصلہ

غیر کارکرد عہدیداروں و ملازمین کے خلاف کارروائی، قبرستانوں میں مفت تدفین، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 16۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے حج ہاؤز سے متصل زیر تکمیل ہمہ منزلہ کامپلکس کو 30 سالہ لیز پر دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں بہت جلد گلوبل ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ بورڈ نے غیر کارکرد اور نااہل اسٹاف کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں کل سے وجہ نمائی نوٹس جاری کی جائے گی ۔ وقف بورڈ کا اجلاس آج صدرنشین محمد سلیم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اوقافی جائیدادوں کی ترقی اور ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے کئی فیصلے کئے گئے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہاکہ اوقافی جائیدادوں کو ترقی دینے کیلئے حکومت نے جن 11 جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے ، ان میں پہلے مرحلہ میں حج ہاؤز سے متصل ہمہ منزلہ عمارت کو لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ بہت جلد لیز کے سلسلہ میں ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے اور جس ٹنڈر گزار کی بولی سب سے زیادہ ہوگی، اسے لیز منظور کی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ بورڈ نے ساری عمارت ایک ہی ادارہ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ فوڈ کورٹ یا کسی آئی ٹی کمپنی کو لیز کیلئے ترجیح دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عمارت میں کسی بھی غیر شرعی سرگرمیاں جیسے پب، بار یا ڈسکو کی اجازت نہیں رہے گی ۔ محمد سلیم نے کہا کہ بورڈ کو خانم میٹ میں تاریخی مسجد عالمگیر اور اس کی قیمتی اراضی کے تحفظ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ گزشتہ 100 برسوں میں اس مسجد اور اراضی کا تحفظ نہیں کیا جاسکا۔ محمد سلیم نے چیف منسٹر کے سی آر اور مقامی پولیس عہدیداروں سے اظہار تشکر کیا جنہوں نے وقف بورڈ سے تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے 24 گھنٹے مسلسل قیام کرتے ہوئے حدبندی کا کام مکمل کیا ہے۔ بہت جلد مسجد آباد کردی جائے گی اور کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اندرون 15 یوم نمازوں کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ بورڈ کی جانب سے امام اور مؤذن کا تقرر کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مسجد عالمگیر کیلئے کوئی کمیٹی نہیں ہے اور وقف ریکارڈ کے مطابق ایک ایکر 15 گنٹے اراضی موجود ہے اور وقف بورڈ کو ایک ایکر 14 گنٹے اراضی کے تحفظ میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی تعمیر و مرمت کیلئے 5 لاکھ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کے مشترکہ سروے میں اراضی کی نشاندہی ہوئی ہے ۔ ایک آئی اے ایس عہدیدار کی جانب سے جو تعمیرات جاری ہیں، وہ زمین وقف کے تحت شامل نہیں ، لہذا وقف بورڈ کو تعمیرات پر کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت غیر کارکرد اور نااہل عہدیداروں اور ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ ایسے افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے کل سے میمو جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دو میموز کے بعد بھی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی تو انہیں خدمات سے علحدہ کردیا جائے گا ۔ محمد سلیم نے کہا کہ وقف بورڈ کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار افراد کو بخشنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ اونٹ واڑی قبرستان جس کا حال ہی میں تحفظ کیا گیا ہے، مقامی معززین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبرستانوں میں فری تدفین کی مہم کو تیز کیا جائے گا۔ محمد سلیم نے کہا کہ کسی بھی قبرستان کے متولی یا کمیٹی کو قبر کیلئے ہزاروں یا لاکھ روپئے وصول کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی متولی یا کمیٹی رقومات کا مطالبہ کرے گی ، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے متولیوں یا کمیٹیوں کے بارے میں وقف بورڈ کو اطلاع دیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ صرف مزدوری کے اخراجات وصول کرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ ریونیو سروے میں اوقافی جائیدادوں کی شمولیت کے سلسلہ میں وقف بورڈ کا ریکارڈ ضلع کلکٹر کے پاس روانہ کیا گیا ہے۔ ہر ضلع کا ریکارڈ متعلقہ ضلع کلکٹر کو روانہ کر دیا گیا ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سروے میں شامل عہدیداروں کو اوقافی جائیدادوں کے سلسلہ میں نشاندی کریں۔ اجلاس میں بورڈ کے ارکان ملک معتصم خاں ، مولانا اکبر نظام الدین صابری ، مرزا انور بیگ، نثار حسین حیدر آغا، زیڈ ایچ جاوید ، وحید احمد ایڈوکیٹ ، معظم خاں کے علاوہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT