Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / حج ہاوز سے متصل عمارت میں اقلیتی بہبود کے دفاتر کی منتقلی کی تیاریاں

حج ہاوز سے متصل عمارت میں اقلیتی بہبود کے دفاتر کی منتقلی کی تیاریاں

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا دورہ ، ضرورت کے مطابق جگہ کے الاٹمنٹ کا تیقن
حیدرآباد ۔27۔ نومبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج عوامی نمائندوں اور اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ حج ہاؤز سے متصل زیر تعمیر 7 منزلہ کامپلکس کا دورہ کیا جہاں اقلیتی بہبود کے تمام دفاتر منتقل کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عوام کی سہولت کیلئے اقلیتی بہبود کے دفاتر کو ایک چھت کے نیچے منتقل کرنے کی ہدایت دی اور ان کے مشورہ پر ڈپٹی چیف منسٹر نے آج یہ دورہ کیا۔ انہوں نے عمارت کی دو منزلوں کا معائنہ کیا اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اقلیتی بہبود کے دفاتر کی ضرورت کے لحاظ سے جگہ کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے عوامی نمائندوں سے اس سلسلہ میں تجاویز طلب کی ہے۔ اس کامپلکس میں اقلیتی بہبود سے متعلق 11 دفاتر منتقل کئے جائیں گے اور اقلیتی طلبہ کیلئے پیشہ ورانہ کورسس اور دیگر مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کا اہتمام اسی عمارت میں کیا جائے گا ۔ کوچنگ کے سلسلہ میں وسیع تر کلاس رومس تعمیر کئے جائیں گے۔ عمارتوں کی منتقلی کے بعد موجودہ حج ہاؤز حج کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا۔ حج کمیٹی عازمین حج کے لئے کیمپ کے انعقاد اور دیگر سرگرمیوں کیلئے اس عمارت کا استعمال کرے گی ۔ حج کیمپ کا دو ماہ کیلئے انعقاد عمل میں آتا ہے اور باقی ایام میں اس عمارت کو بھی اقلیتوں کیلئے مختلف کوچنگ کلاسس کے انعقاد اور ضرورت پڑنے پر ہاسٹل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ معائنہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ 7 منزلہ کامپلکس میں ایک لاکھ 12 ہزار 377 مربع فیٹ کی گنجائش موجود ہیں اور 20411 مربع فیٹ گنجائش کے دو سیلرس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد سے جلد زیر تعمیر کاموں کی تکمیل کرتے ہوئے اقلیتی بہبود دفاتر کو اس کامپلکس میں منتقل کردیا جائے گا ۔ اس کامپلکس میں جو دفاتر کام کریں گے ، ان میں ڈائرکٹوریٹ اقلیتی بہبود ، وقف بورڈ ، اقلیتی فینانس کارپوریشن ، اردو اکیڈیمی ، کرسچن فینانس کارپوریشن ، اقلیتی کمیشن ، وقف ٹریبونل ، سی ای ڈی ایم ، میناریٹیز اسٹڈی سرکل ، کیریئر گائیڈنس سنٹر اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد شامل ہوں گے۔ سروے کمشنر وقف کا دفتر سکریٹریٹ میں برقرار رہے گا جبکہ دائرۃ المعارف کو عثمانیہ یونیورسٹی میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کے لئے دیگر سوسائٹیوں کی طرح حکومت نے اراضی الاٹ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس اراضی پر سوسائٹی کا دفتر تعمیر کیا جائے گا ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اقلیتی دفاتر کی منتقلی کے بعد گراؤنڈ فلور پر 50,000 مربع فیٹ گنجائش کی موجودگی کا ذکر کیا اور تجویز پیش کی کہ گراؤنڈ فلور کو تجارتی اغراض کیلئے لیز پر دیا جاسکتا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ کامپلکس میں ایک انچ زمین بھی لیز پر نہیں دی جائے گی بلکہ گراؤنڈ فلور کو اقلیتی طلبہ کی ٹریننگ سنٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام اقلیتی دفاتر معیاری انداز میں تعمیر کئے جائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حج ہاؤز کی عمارت کو حج کمیٹی کی سرگرمیوں کیلئے مختص کیا جائے گا اور حج سرگرمیوں کے اختتام کے بعد 8 تا 9 ماہ کیلئے عمارت کو تعلیمی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی دفاتر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں کام کر رہے ہیں جس سے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ چیف منسٹر نے ان دشواریوں کو دیکھتے ہوئے ایک ہی کامپلکس میں معیاری طرز کے دفاتر تعمیر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر کے اس منصوبہ پر جلد از جلد عمل آوری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے دفاتر خانگی عمارتوں میں بھاری کرایہ ادا کر رہے ہیں اور یہاں منتقلی کے بعد ان کا بوجھ کم ہوگا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن ماہانہ 24,000 ، اردو اکیڈیمی 30,000 ، کرسچین فینانس کارپوریشن 21,000 ، وقف ٹریبونل 78541 ، سی ڈی ای ایم 20,000 ، میناریٹی اسٹڈی سرکل 70,000 اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد کی جانب سے 44,000 کرایہ ادا کیا جارہا ہے۔ حج کمیٹی کوئی کرایہ ادا نہیں کرتی کیونکہ حج ہاؤز میں اس کی حصہ داری ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے دورہ کے موقع پر حکومت کے مشیر اے کے خاں ، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، اسپیشل آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور ، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم ، صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین ، چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ منان فاروقی اور ارکان اسمبلی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT