Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / حج ہاوز مینٹننس اور عمارت میں موجود اداروں کے کرایوں کے تعین پر اجلاس

حج ہاوز مینٹننس اور عمارت میں موجود اداروں کے کرایوں کے تعین پر اجلاس

اردو اکیڈیمی ، حج کمیٹی ، اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اے پی وقف بورڈ کے عہدیداروں کی شرکت ، الحاج محمد سلیم کا خطاب
حیدرآباد۔ 4 مئی (سیاست نیوز) حج ہائوز کی عمارت کے مینٹننس اور عمارت میں موجود مختلف اداروں کے کرائے کے ازسر نو تعین کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج اجلاس منعقد کیا تھا۔ اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی، اقلیتی فینانس کارپوریشن اور آندھراپردیش وقف بورڈ کے عہدیداروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب حج ہائوز کی مینٹننس کے سلسلہ میں عمارت میں موجود سرکاری اداروں کے عہدیداروں سے رائے حاصل کی گئی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف ادارے وقف بورڈ کو کرایہ ادا کررہے ہیں لیکن یہ مارکٹ ریٹ کے مطابق نہیں ہے۔ وقف بورڈ نے کرائے میں اضافہ کے علاوہ ماہانہ مینٹننس چارجس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برقی کے استعمال کے سلسلہ میں سارا بوجھ وقف بورڈ پر پڑرہا تھا لہٰذا بورڈ نے ہر ادارے کے لیے علیحدہ برقی میٹر نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ برقی کے چارجس متعلقہ اداروں کی جانب سے ادا کیئے جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام اداروں میں مارکٹ ریٹ کے اعتبار سے کرائے کی ادائیگی سے اتفاق کیا ہے۔ مجلس بلدیہ سے علاقے کے اعتبار سے کرائے کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے ہر ادارے کا کرایہ مقرر کیا جائے گا۔ مینٹننس چارجس کے طور پر ماہانہ 20 ہزار روپئے ہر ادارے کی جانب سے ادا کیئے جائیں گے۔ آندھراپردیش وقف بورڈ چوں کہ عمارت میں 55 فیصد کا حصہ دار ہے لہٰذا اس سے کرایہ حاصل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے ماہانہ میٹننس چارجس ادا کرنے ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اداروں کے عہدیداروں نے مینٹننس کے سلسلہ میں لاپرواہی کی شکایت کی اور کہا کہ اگر مینٹننس چارجس وصول کئے جائیں تو پھر خدمات بھی اعلی معیار کی ہونی چاہئے۔ انہوں نے گزشتہ دو ماہ سے عمارت کی ایک لفٹ کے ناکارہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بارہا توجہ دہانی کے باوجود مینٹننس حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کے باعث اقلیتی اداروں کے عہدیداروں ، ملازمین اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مختلف اداروں نے شکایت کی کہ عمارت کی نگہداشت دیگر مرمتی کاموں کے سلسلہ میں بھی مینٹننس سیکشن کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ وقفہ وقفہ سے عمارت میں صحت و صفائی کے انتظامات کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مینٹننس کے سلسلہ میں خانگی شعبہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز پیش کی۔ اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے کو ہے اور حج سیزن بھی قریب آچکا ہے لہٰذا وقف بورڈ کو عمارت میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اقلیتی اداروں نے کہا کہ ماہانہ 20 ہزار روپئے مینٹننس چارجس کے اعتبار سے وہ خدمات کی امید کرتے ہیں۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے بتایا کہ عمارت کی بہتر نگہداشت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں ضرورت پڑنے پر ٹینڈر طلب کرتے ہوئے مینٹننس کی ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کے تمام حصوں میں مرمتی کاموں اور الیکٹرسٹی سے متعلق وائرنگ کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمر پر بوجھ کو کم کرنے کے لیے زائد ٹرانسفارمر کے حصول کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مارکٹ ریٹ سے کرائے کے تعین، مینٹننس چارجس اور علیحدہ برقی میٹرس کی تنصیب سے عمارت کی بہتر نگہداشت میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے مینٹننس سے متعلق عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے مختلف اقلیتی اداروں کی شکایات سے واقف کرایا اور کہا کہ عمارت کی بہتر نگہداشت اور سہولتوں کے سلسلہ میں کسی بھی خامی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں اسپیشل آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور، اسسٹنٹ جنرل منیجر اقلیتی فینانس کارپوریشن ایم اے باری، عرفان شریف (حج کمیٹی)، آر کرشنا (اردو اکیڈیمی) اور آندھراپردیش وقف بورڈ کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ ان عہدیداروں کو عمارت کی آہک پاشی اور کلر کے کام کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ گزشتہ 16 برسوں میں پہلی مرتبہ حج ہائوز کی عمارت کی کلرنگ کا کام شروع کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT