Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حج ہاوز میں غیر مجاز آن لائن سنٹر برخاست

حج ہاوز میں غیر مجاز آن لائن سنٹر برخاست

روزنامہ سیاست کی خبر کا اثر ، سید عمر جلیل نے شخصی معائنہ کے بعد کارروائی کی
حیدرآباد۔/19 جنوری، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کی جانب سے 10اضلاع میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن اس کی ملکیت والی عمارت حج ہاوز میں غیر مجاز آن لائن سنٹر سے 5برس تک وقف بورڈ کے حکام لاعلم رہے اور روز نامہ ’سیاست‘ نے 16جنوری کی اشاعت میں اس بارے میں خبر شائع کی تھی۔ آخر کار اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے حکام خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور آج سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے شخصی طور پر عمارت کا معائنہ کرتے ہوئے غیر مجاز سنٹر کو برخواست کردیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جب عمارت کا معائنہ کررہے تھے تو انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ گزشتہ پانچ برسوں سے غیر مجاز آن لائن اور زیراکس سنٹر عمارت کے گراؤنڈ فلور پر کام کررہا ہے جس سے بھاری منافع حاصل ہورہا ہے لیکن اس منافع میں عمارت کے مالک وقف بورڈ کا کوئی حصہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ بعض اندرونی افراد کی ملی بھگت سے یہ سنٹر کام کررہا تھا اور وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں رقم جمع ہونے کے بجائے غیر متعلقہ افراد کی جیب گرم ہورہی تھی۔ سید عمر جلیل نے روز نامہ ’سیاست‘ میں خبر کی اشاعت کے بعد عہدیداروں کو تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن غیر اطمینان بخش معلومات فراہم کی گئیں جس پر سکریٹری اقلیتی بہبود آج خود حج ہاوز پہنچ گئے اور عمارت کے سیلر میں کام کرنے والے اس سنٹر کا معائنہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے یہ سنٹر کام کررہا ہے اور ابھی تک وقف بورڈ سے اجازت حاصل نہیں کی گئی۔ سکریٹری کو شکایت کی گئی کہ  زیراکس اور دیگر اسکیمات کیلئے آن لائن خدمات کیلئے زائد رقم وصول کی جارہی تھی۔ائمہ اور مؤذنین کی اسکیم کیلئے آن لائن درخواستیں داخل کرنے فی کس 300 روپئے وصول کئے گئے۔ سکریٹری نے جب وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ معائنہ کیا تو اس سنٹر کے تحت3 کمپیوٹرس، 2 لیاپ ٹاپ اور ایک زیراکس مشین کام کررہا تھا۔ 6افراد پر مشتمل ٹیم مختلف کاموں پر مامور تھی اور ضرورت مند افراد قطار میں اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پانچ برس سے یہ سنٹر قائم ہے اور وقف بورڈ کے عہدیدار لاعلم ہیں۔ انہوں نے اجازت کے بارے میں دریافت کیا تو سنٹر کے ذمہ دار نے بتایا کہ باقاعدہ طور پر اجازت حاصل نہیں کی گئی اور انہوں نے کرایہ دار بننے کیلئے وقف بورڈ میں درخواست داخل کی جو زیر تصفیہ ہے۔ وقف بورڈ کے حکام نے وضاحت کی کہ حالیہ عرصہ میں یہ درخواست داخل کی گئی جس کیلئے کرایہ کے تعین کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے عوام کو مفت خدمات کی فراہمی سے متعلق دعویٰ کے غلط ثابت ہونے پر فوری تخلیہ کی ہدایت دی۔ انہیں بتایا گیا کہ سنٹر کی جانب سے برقی اور دیگر سہولتوں سے استفادہ کیا جارہا ہے اور وقف بورڈ کو ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا جاتا۔ بتایا گیا کہ بعض اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں کی سرپرستی سے یہ سنٹر کام کررہا تھا جہاں ’ می سیوا ‘ کی خدمات کیلئے من مانی رقم وصول کی جارہی تھی۔ اب جبکہ حج سیزن کا آغاز ہوچکا ہے، کاروبار عروج پر ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ نے فوری سنٹر کے تخلیہ کی ہدایت دی اور فیصلہ کیا کہ اس طرح کے کسی سنٹر کے قیام کیلئے باقاعدہ درخواستیں وصول کرتے ہوئے کرایہ مقرر کیا جائے گا۔ اس طرح سکریٹری اقلیتی بہبود نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حج ہاوز کی عمارت میں کارکرد غیر مجاز سنٹر کو برخواست کیا ہے جسے بتایا جاتا ہے کہ حج کمیٹی اور اقلیتی بہبود کے بعض ملازمین کی سرپرستی حاصل تھی۔

TOPPOPULARRECENT