Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / حج ہاوز کی غیر موثر نگہداشت ، بیشتر لفٹس غیر کارکرد

حج ہاوز کی غیر موثر نگہداشت ، بیشتر لفٹس غیر کارکرد

حیدرآباد۔/4فروری، ( سیاست نیوز) حکومت نے حج ہاوز کی عمارت کی نگہداشت کی ذمہ داری وقف بورڈ کودی ہے اور اس کے لئے ایک کروڑ روپئے مختص کئے گئے لیکن وقف بورڈ کے حکام حج ہاوز کی عمارت کی مناسب نگہداشت اور عوام کیلئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں یکسر ناکام ہوچکے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ حج2014 کیلئے درخواستوں کی اجرائی اور وصولی کا آغاز ہوچکا ہے ا

حیدرآباد۔/4فروری، ( سیاست نیوز) حکومت نے حج ہاوز کی عمارت کی نگہداشت کی ذمہ داری وقف بورڈ کودی ہے اور اس کے لئے ایک کروڑ روپئے مختص کئے گئے لیکن وقف بورڈ کے حکام حج ہاوز کی عمارت کی مناسب نگہداشت اور عوام کیلئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں یکسر ناکام ہوچکے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ حج2014 کیلئے درخواستوں کی اجرائی اور وصولی کا آغاز ہوچکا ہے اور خود روزگار اسکیم کے تحت درخواست دینے کیلئے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں اقلیتی افراد حج ہاوز پہنچ رہے ہیں لیکن افسوس کہ حج ہاوز میں موجود چار لفٹس میں سے صرف دو ہی کارکرد ہیں جس کے باعث عوام کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ عمارت کے ہر بلاک میں دو، دو لفٹ ہیں جن میں صرف ایک، ایک ہی کارکرد ہے۔ حج ہاوز میں لفٹ کا ناکارہ ہونا کوئی نئی بات نہیں ہمیشہ ہی کسی نہ کسی لفٹ کو خرابی کا بہانہ بناکر بند کردیا جاتا ہے اور مابقی تین لفٹس میں ایک لفٹ صرف اعلیٰ عہدیداروں کے لئے مختص ہے جو صرف دوسری منزل تک جاتی ہے جہاں حج ہاوز کا دفتر موجود ہے جبکہ پہلی منزل پر وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کا چیمبر ہے۔ اس بلاک میں صرف ایک ہی لفٹ کی موجودگی کے باعث ضعیف مرد و خواتین کو دوسری منزل تک جانے کیلئے قطار میں ٹھہرنا پڑتا ہے یا پھر مجبوراً وہ تکلیف اٹھاکر سیڑھیوں کے سہارے اوپری منزل تک جانے پر مجبور ہیں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہیکہ ضعیف مرد و خواتین بڑی مشکل سے پہلی منزل تک سیڑھیوں کے ذریعہ پہنچتے ہیں اور وہاں کچھ دیر کیلئے توقف پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کچھ یہی حال دوسرے بلاک کا ہے جہاں ایک لفٹ کئی دن سے خرابی کے بہانے بند ہے اور صرف ایک ہی لفٹ کام کررہی ہے۔ خود روزگار اسکیم کے تحت درخواست دینے کیلئے امیدوار اور ان کے سرپرستوں کو سیڑھیوں کے ذریعہ چھٹویں منزل تک جانا پڑ رہا ہے اور یہ انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے۔ اس سلسلہ میں وقف بورڈ کے حکام سے ربط پیدا کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی کہ لفٹ کی تکنیکی خرابی کو کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک ایک لفٹ میں مقررہ تعداد سے زیادہ افراد سوار ہوجانے سے کسی ایک منزل پر لفٹ جام ہوجاتی ہے

اور اس کے دروازے نہیں کھل پاتے۔ لفٹس کے مینٹننس اور نگہداشت کیلئے وہاں فوری طور پر کوئی عملہ دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری منزل تک محدود کردی گئی لفٹ تو صرف اسی وقت کام کرتی ہے جب وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر اور حج کمیٹی کے اعلیٰ عہدیدار موجود ہوں۔ ان کی غیر موجودگی میں اس لفٹ کو بند کردیا جاتا ہے۔ وقف بورڈ جو کہ عمارت کی نگہداشت کا ذمہ دارہے اسے عوام کی تکلیف کا کوئی احساس نہیں۔ کم از کم حج سیزن اور خودروزگار اسکیم کیلئے آنے والے سینکڑوں افراد کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے لفٹس کو درست رکھا جانا چاہیئے تھا۔ جاریہ سال حکومت نے حج ہاوز کے مینٹننس کیلئے ایک کروڑ روپئے مختص کئے جس میں 75لاکھ روپئے جاری کردیئے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس رقم میں سے 25لاکھ روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس قدر خطیر رقم سے جب لفٹس کو بحال نہیں رکھا جاسکتا تو پھر کس مد کے تحت یہ رقم خرچ کی جارہی ہے۔ کئی ضعیف مرد و خواتین نے وقف بورڈ کے اس تساہل پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ عمارت میں صحت و صفائی کے انتظامات کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جگہ جگہ کچہرے، غلاظت کے علاوہ دیواروں پر پان کے دھبے اور بدبو پھیلی ہوئی ہے۔ وقف بورڈ کے حکام اور اعلیٰ عہدیدار ان تمام چیزوں پر فوری توجہ دیں۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ خود عہدیدار بھی گندگی اور عدم صفائی کو دیکھ کر بھی صرف نظر کئے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT