Monday , May 21 2018
Home / شہر کی خبریں / !حج ہاوز کے اقلیتی اداروں میں نیا تنازعہ

!حج ہاوز کے اقلیتی اداروں میں نیا تنازعہ

وقف بورڈ نے یکطرفہ طور پر بھاری کرایوں کی نوٹس دی، فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی میں اُلجھن
عمارت میں حج کمیٹی کی حصہ داری ، کرایہ دینے سے انکار
حیدرآباد۔/3مارچ، ( سیاست نیوز) حج ہاوز میں موجود اقلیتی بہبود کے اداروں میں اسوقت ایک نیا تنازعہ پیدا ہوگیا جب تلنگانہ وقف بورڈ نے اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی اور حج ہاوز کو کرایوں میں اضافہ کی نہ صرف نوٹس جاری کردی بلکہ انہیں2017 سے مارکٹ ریٹ کے حساب سے بقایا جات کی ادائیگی کی ہدایت دی ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی نے تینوں اداروں کو 2 فبروری کو ڈیمانڈ نوٹس جاری کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ نے رزاق منزل جسے حج ہاوز کا نام دیا ہے اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ حج ہاوز کی تعمیر میں حج کمیٹی اور آندھرا پردیش کے اوقافی اداروں کی بھاری رقم شامل ہے لہذا حج کمیٹی اور آندھرا پردیش وقف بورڈ نے عمارت پر اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ وقف بورڈ نے اقلیتی اداروں سے کوئی مشاورت کئے بغیر ہی آر اینڈ بی کے مقررہ ریٹ سے کرایوں کا تعین کردیا۔ اس کے علاوہ ماہانہ مینٹننس چارجس بھی مقرر کئے گئے۔ تلنگانہ حج کمیٹی عمارت کی تعمیر میں اپنی حصہ داری کے سبب دفتر کا کرایہ اور برقی چارجس ادا نہیں کررہی ہے جبکہ اردو اکیڈیمی ماہانہ 30 ہزار اور اقلیتی فینانس کارپوریشن ماہانہ 40 ہزار روپئے کرایہ ادا کررہے ہیں۔ وقف بورڈ نے نہ صرف حج کمیٹی کو مارکٹ ریٹ کے اعتبار سے کرایہ مقرر کردیا ہے بلکہ دیگر دو اداروں کے کرایوں میں اضافہ کی نوٹس دی گئی۔ وقف بورڈ کا یہ اقدام محکمہ اقلیتی بہبود میں ایک نئے تنازعہ کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ یہ ادارے اضافہ کرایہ کی ادائیگی کے موقف میں نہیں ہیں اور وہ اس مسئلہ کو سکریٹری اقلیتی بہبود سے رجوع کرنے کی تیاری کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ نے یکطرفہ طور پر کرایوں میں اضافہ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اردو اکیڈیمی کو جاری کردہ نوٹس میں 20 روپئے فی اسکوائر فیٹ کے اعتبار سے 82,764 روپئے کرایہ مقرر کیا گیا اور یکم مئی 2017 تا 31 ستمبر 2017 کے بقایا جات کے طور پر 4 لاکھ 13 ہزار800 روپئے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 3 روپئے فی اسکوائر فیٹ کے اعتبار سے ماہانہ 20ہزار روپئے مینٹننس چارجس مقرر کئے گئے اور بقایا جات کی رقم ایک لاکھ روپئے مقرر کی گئی۔ اس طرح جملہ 5 لاکھ 13 ہزار 800 روپئے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔ تلنگانہ حج کمیٹی کیلئے 3 فلور پر موجود دفاتر کا کرایہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 62 ہزار 827 روپئے مقرر کیا گیا۔ بقایا جات کے ساتھ 8 لاکھ 14 ہزار 135 روپئے کی ادائیگی کی ہدایت دی گئی ہے۔ مینٹننس چارجس کے طور پر ایک لاکھ روپئے مقرر کئے گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر 9 لاکھ 14 ہزار 135 روپئے کی ادائیگی کی ہدایت دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حج ہاوز کی تعمیر میں 5 مراحل میں حج کمیٹی نے 94 لاکھ 60 ہزار روپئے ادا کئے تھے۔ اس کے علاوہ حکومت نے حج ہاوز برائے عازمین حج کی تعمیر کیلئے 4 کروڑ 89 لاکھ 50 ہزار جاری کئے۔ اس کے علاوہ ریوالونگ فنڈ کے طور پر حج ہاوز کیلئے 25 لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی۔ اس طرح تلنگانہ حج کمیٹی کا عمارت کی تعمیر میں مالیاتی حصہ تقریباً 6 کروڑ ہے لہذا حج کمیٹی کرایہ کی ادائیگی سے مستثنیٰ رہنا چاہتی ہے۔ آندھرا پردیش وقف بورڈ کا یہ دعویٰ ہے کہ درگاہ حضرت اسحاق مدنیؒ کی آمدنی سے 9 کروڑ 8 لاکھ روپئے تعمیر میں شامل کئے گئے۔ لہذا عمارت میں اس کا بھی حصہ ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ نے عمارت میں مالیاتی حصہ داروں کی ادائیگی یا ان سے مشاورت کے بغیر ہی یکطرفہ طور پر کرایہ مقرر کردیا۔ تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے 2 فلور پر موجود دفاتر کیلئے ماہانہ 95 ہزار 814 روپئے کرایہ مقرر کیا گیا جبکہ بقایا جات اور مینٹننس چارجس کے ساتھ جملہ 2 لاکھ 74 ہزار 40 روپئے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ تینوں اداروں کو نوٹس کی وصولی کے 10دن میں ادائیگی کی ہدایت دی گئی تھی لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود کسی بھی ادارہ نے یہ رقم جاری نہیں کی۔دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس تنازعہ کی یکسوئی کس طرح کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT