حج 2015 درخواستوں کی اجرائی کے ساتھ ہی درمیانی افراد کی سرگرمیوں میں اضافہ

حیدرآباد۔ 21 ۔ جنوری (سیاست نیوز) حج 2015 ء کیلئے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے عازمین حج کو درخواستوں کی اجرائی اور وصولی کا آغاز ہوئے صرف دو دن گزرے لیکن حج ہاؤز میں ابھی سے درمیانی افراد سرگرم ہوچکے ہیں، جو عازمین حج کو ان کی روانگی کو یقینی بنانے کا لالچ دیتے ہوئے دھوکہ دہی کا جال بچھارہے ہیں۔ درخواست فارمس کی اجرائی کے دن اعلیٰ عہدید

حیدرآباد۔ 21 ۔ جنوری (سیاست نیوز) حج 2015 ء کیلئے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے عازمین حج کو درخواستوں کی اجرائی اور وصولی کا آغاز ہوئے صرف دو دن گزرے لیکن حج ہاؤز میں ابھی سے درمیانی افراد سرگرم ہوچکے ہیں، جو عازمین حج کو ان کی روانگی کو یقینی بنانے کا لالچ دیتے ہوئے دھوکہ دہی کا جال بچھارہے ہیں۔ درخواست فارمس کی اجرائی کے دن اعلیٰ عہدیداروں نے واضح کردیا تھا کہ کوئی بھی شخص حتیٰ کہ عہدیدار بھی قرعہ اندازی کے بغیر کسی کو منتخب نہیں کرسکتا۔ عازمین سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ درمیانی افراد کی دھوکہ دہی کا شکار نہ ہوں اور اپنی رقومات ضائع نہ کریں۔ اس کے باوجود حج ہاؤز کے احاطہ میں کئی درمیانی افراد صبح سے شام تک سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ ان میں بعض سیاسی قائدین ، نام نہاد صحیفہ نگار اور حج کمیٹی کے ملازمین ظاہر کرتے ہوئے عازمین حج کو اپنے جال میں پھانسنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حج فارمس اور ان کے ادخال کیلئے حج ہاؤز میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مرد و خواتین آرہے ہیں اور ہر کسی کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح ان کا نام منتخب عازمین کی فہرست میں شامل ہوجائے۔ حج فارمس کو پر کرنے اور دیگر دستاویزات کے سلسلہ میں رہنمائی کے نام پر درمیانی افراد ان بھولے بھالے عازمین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو ان کا نام عازمین کی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے ۔ تاہم اس کے لئے انہیں کچھ رقم خرچ کرنی پڑے گی ۔ کئی عازمین نے شکایت کی کہ انہیں درمیانی افراد کی جانب سے بہکانے کی کوشش کی گئی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ افراد خود کو حج کمیٹی سے وابستہ ظاہر کر رہے تھے۔ حج کمیٹی نے عازمین کی رہنمائی کے سلسلہ میں بعض کاؤنٹرس قائم کئے لیکن وہ درمیانی افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے سے قاصر ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں جس طرح حج کمیٹی کے بعض ملازمین بے قاعدگیوں میں ملوث تھے ، وہ اس مرتبہ اپنے ایجنٹس کے ذریعہ عازمین کو ٹھگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حج کمیٹی نہ صرف درمیانی افراد بلکہ اپنے ملازمین کی سرگرمیوں پر کڑی نگرانی رکھیں تاکہ عازمین کو دھوکہ دہی سے بچایا جاسکے۔ حج کمیٹی میں باقاعدہ طور پر سرویس رولز کے مطابق ملازمین نہیں ہیں بلکہ جس وقت حج کمیٹی کے سکریٹری شہر کے کمشنر پولیس ہوا کرتے تھے، اس زمانہ میں ہوم گارڈز کو حج کمیٹی میں ضم کردیا گیا اور وہی ابھی تک خدمات انجام دے رہے ہیں۔ عازمین کو کسی بھی درمیانی فرد کے رجوع ہونے کی ضرورت میں راست طور پر اسپیشل آفیسر حج کمیٹی سے شکایت کرنی چاہئے تاکہ ان کے خلاف پولیس کارروائی کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT