Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حج 2016 کے بہترین انتظامات پر ریاستی حج کمیٹیوں کو مبارکباد کی پیشکشی

حج 2016 کے بہترین انتظامات پر ریاستی حج کمیٹیوں کو مبارکباد کی پیشکشی

آن لائن ادخال درخواست پر توجہ دینے کا مشورہ ، ممبئی میں سنٹرل حج کمیٹی اجلاس سے مختار عباس نقوی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 24۔اکتوبر (سیاست نیوز) مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے حج 2016 ء کے لئے بہتر انتظامات پر ملک کی تمام ریاستی حج کمیٹیوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ حج 2017 ء کیلئے حکومت مزید بہتر انتظامات کو یقینی بنائے گی۔ مختار عباس نقوی آج ممبئی میں سنٹرل حج کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ، جس میں حج 2016 ء کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں صدرنشین سنٹرل حج کمیٹی چودھری محبوب علی قیصر،  جدہ میں ہندوستانی قونصلیٹ محمد نور رحمن شیخ کے علاوہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر سنٹرل حج کمیٹی  عطاء الرحمن ، جوائنٹ سکریٹری وزارت اقلیتی امور جانی عالم کے علاوہ مختلف ریاستوں کے صدورنشین حج کمیٹی اور اگزیکیٹیو آفیسرس نے شرکت کی ۔ تلنگانہ حج کمیٹی کی نمائندگی اسپیشل آفیسر پروفیسر ایس اے شکور نے کی ۔ مختار عباس نقوی نے حج کمیٹیوں سے خواہش کی کہ درخواستوں کے آن لائین ادخال کیلئے شعور بیدار کریں۔ 2016 ء حج کیلئے زیادہ تر درخواستیں شخصی طور پر داخل کی گئیں جبکہ آن لائین درخواستوں کی سہولت موجود تھی لیکن بہت کم حجاج کرام نے اس سے استفادہ کیا۔ کیرالا ، گجرات اور جھارکھنڈ سے آن لائین درخواستیں داخل کی گئیں ۔ انہوں نے بتایا کہ حج 2017 ء میں مکہ مکرمہ میں مدینہ منورہ کیلئے میٹرو ٹرین کا آغاز ہوسکتا ہے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر سنٹرل حج کمیٹی عطاء الرحمن نے بتایا کہ 2017 ء کا حج فارم ایک صفحہ پر مشتمل ہوگا اور زائد امور کو درخواست سے حذف کردیا گیا ہے۔ کمیٹی نے درخواست فارم کو آسان بنادیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ ڈسمبر کے آخری ہفتہ سے درخواستوں کے ادخال کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھرمیں 23,397 ایسے درخواست گزار ہیں جو مسلسل چوتھی مرتبہ درخواست داخل کئے ہیں۔ تاہم وہ حج کیلئے نہیں جاسکے۔ حج کوٹہ میں اضافہ کی صورت میں انہیں روانہ کیا جائے گا ۔ حج 2016 ء میں 137 ء اموات واقع ہوئیں جبکہ 4 خواتین کی ڈیلیوری ہوئی ۔ انہوں نے حج کمیٹیوں سے خواہش کی کہ میڈیکل سرٹیفکٹ کی جانچ کے بعد ہی خواتین کو سفر کی اجازت دیں۔ 2022 ء میں حج سبیسڈی ختم ہوجائے گی کیونکہ ہر سال سبسیڈی میں  20 فیصد کی کمی ہورہی ہے ۔ لہذا ہر سال فضائی کرایہ میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ حج 2016 ء میں 65 فیصد حجاج کرام نے ٹرین کے ذریعہ جبکہ 35 فیصد نے بس کے ذریعہ سفر کیا۔ جدہ کے ہندوستانی قونصلیٹ محمد نور رحمن شیخ نے اجلاس کو بتایا کہ آئندہ سال سے عازمین حج کو سم کارڈ اپنے خرچ سے خریدنا ہوگا کیونکہ سم کارڈ کیلئے فنگر پرنٹ کولازمی قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ سال مدینہ منورہ میں رہائش کیلئے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ حجاج کرام نے قریبی علاقہ میں قیام کی سہولت کی درخواست کی ہے۔ اسپیشل آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے حج 2016 ء میں پیش آئے دشواریوں سے اجلاس کو واقف کرایا ۔ انہوں نے ایر انڈیا حکام کی غیر ذمہ داری کی شکایت کی اور کہا کہ ایرپورٹ کے علاوہ فلائیٹ میں بھی حکام کا رویہ حجاج کے ساتھ ٹھیک نہیں رہا۔ مدینہ منورہ سے روانگی کے بعد حجاج کرام کو کھانا سربراہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ایرپورٹ پر ایر انڈیا کے سینئر عہدیدار کو مستقل طور پر نوڈل آفیسر مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے بتایا کہ 12 سال تک سعودی ایرلائینس نے حیدرآباد سے خدمات  انجام دیں لیکن جاریہ سال ایر انڈیا الاٹ کیا گیا۔ انہوں نے ایرلائینس کے الاٹمنٹ کے طریقہ کار کے بارے میں استفسار کیا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے سم کارڈس نہ ملنے سے عازمین کو پیش آئی دشواریوں ، معلم کی جانب سے پرانی بسیں فراہم کرنے منیٰ میں کھانے کی عدم سربراہی اور دیگر امور سے واقف کرایا۔ انہوںنے تجویز پیش کی کہ تلنگانہ کیلئے عازمین حج کا ڈرا ریاست کے کوٹہ کی بنیاد پر ہو۔ ضلعی سطح پر کوٹہ الاٹ کرنے سے حیدرآباد کو ناانصافی ہوگی کیونکہ تلنگانہ میں اضلاع کی تعداد 31 ہوچکی ہے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ میں الاٹ کی جانے والی عمارتوں کی تفصیلات حج کمیٹی کو پہلے ہی فراہم کرنے کا مشورہ دیا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے 70 سال سے زائد عمر کے عازمین کے ساتھ جانے والے افراد کے لئے عمر کی حد 40 تا 45 مقرر کرنے کی تجویز پیش کی۔

TOPPOPULARRECENT