حج 2018 اگست میں ہوگا ، 30 اپریل سے قبل حج ویزا کی کارروائی

12 نومبر کو حج شیڈول کی اجرائی ، چیرمین سنٹرل حج کمیٹی چودھری محبوب علی قیصر کی جناب زاہد علی خاں سے ملاقات
حیدرآباد۔9نومبر(سیاست نیوز) حج ۔2018 ماہ اگسٹ میں ہوگا لیکن حج بیت اللہ کو روانہ ہونے کے خواہشمندوں کو حج۔2018 کے پاسپورٹ پر 30اپریل 2018 سے قبل حج ویزا لگا دیا جائے گا۔چودھری محبوب علی قیصر رکن پارلیمنٹ و صدرنشین سنٹرل حج کمیٹی آف انڈیا نے یہ بات بتائی۔ انہو ںنے بتایا کہ سعودی عرب کی وزارت حج کی جانب سے پاسپورٹ کے ادخال کی تاریخ کے تعین اور ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل عازمین حج کے پاسپورٹ پر ویزا لگانے کا عمل مکمل کرنے کے فیصلہ کے سبب سنٹرل حج کمیٹی نے 12نومبر بروز اتوار کو حج۔2018 کا شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ دو یوم کے دوران شیڈول کی اجرائی کے فوری بعد درخواستوں کے ادخال اور وصولی کے سلسلہ میں تواریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔ جناب چودھری محبوب علی قیصر نے دفتر سیاست میں ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان ‘ نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان سے ملاقات کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہو ںنے بتایا کہ ہندستانی عازمین کے لئے اس سال حج کافی مہنگا ہوگا کیونکہ حکومت ہند نے عازمین حج کو فراہم کی جانے والی سبسیڈی کو مکمل برخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ماہ رمضان المبارک سے قبل عازمین کے انتخاب اور ان کے ویزوں کے سلسلہ میں تمام کاروائی کرلی جانی چاہئے اسی لئے مرکزی حج کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ حج۔2018کے سلسلہ میں شیڈول فوری جاری کردیا جائے۔ انہو ںنے بتایا کہ اس مرتبہ پانی کے جہاز سے عازمین حج کی روانگی کے امکانات موہوم ہیں کیونکہ تاحال کمیٹی کو 5000 عازمین حج کو بذریعہ سمندر جدہ پہنچانے والا کوئی جہاز نہیں ملا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پالیسی کی بنیاد پر اس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ اور کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کا جہاز مل جائے تو عازمین کو سہولت حاصل ہوگی ۔ جناب محبوب چودھری نے بتایاکہ پانی کے جہاز کے مسافرین کے لئے 75تا78 ہزار روپئے تک کے مصارف کا امکان ہے جبکہ جائزہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اس سفر کے سبب 21اضافی ایام ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندستانی عازمین حج کا موجودہ سفر 42تا45 دن پر محیط ہے ۔ صدرنشین مرکزی حج کمیٹی نے حکومت ہند کی نئی حج پالیسی کے سلسلہ میں کہا کہ یہ پالیسی آئندہ 5برسوں کے لئے تیارکی گئی ہے لیکن اس پالیسی میں چند سفارشات کو حج کمیٹی نے جوں کا توں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ملک بھر سے حج بیت اللہ کیلئے روانگی کے مقامات میں تخفیف کی سفارش کے علاوہ دیگر امور شامل ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ حج پالیسی کی سفارشات میں موجودہ حج کیلئے روانہ ہونے کے 21 طیرانگاہوں میں صرف 9برقرار رکھتے ہوئے مابقی بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے جوکہ کمیٹی کی نظر میں فوری اثر کے ساتھ مناسب نہیں ہے اسی لئے حج۔2018 کے دوران عازمین کو موجودہ طیرانگاہوں سے روانگی کا اختیار فراہم کیا جائے گا اور اس کے بعد آئندہ موسم حج کے دوران اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ جناب چودھری محبوب علی قیصر نے کہا کہ اسی طرح 70 سال سے زائد عمر کے عازمین کیلئے محفوظ زمرہ کی برخواستگی کی سفارش کی گئی تھی لیکن کمیٹی نے اس سفارش کو مسترد کردیا ہے ۔ اسی طرح بغیر محرم کے حج بیت اللہ کیلئے روانہ ہونے والی خواتین کو اجازت دینے والوں کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پالیسی کے اس حصہ میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ اگر کوئی اس مسئلہ میں اختلاف رکھتا ہے تو وہ اس سہولت سے استفادہ نہ کرے اورجس مسلک میں اجازت ہے وہ جاسکتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سال گذشتہ کے اعتبار سے آئندہ سال حج بیت اللہ کے اخراجات میں 30تا35ہزار کے اضافہ کا امکان ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت اور مرکزی حج کمیٹی کے علاوہ مرکزی وزارت اقلیتی امور کے درمیان تناؤ کی صورتحال کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال معمول پر ہے لیکن گذشتہ چند ماہ کے دوران وزارت کے عہدیداروں کا حج کمیٹی ملازمین سے تعلق بہتر نہ ہونے کی اطلاعات کے متعلق صدرنشین نے کہا کہ زمینی حقائق سے آگہی حاصل کرنے کے بعد ہی اس طرح کے فیصلہ لئے جانے چاہئے لیکن وزارت کے رویہ میں آنے والی تبدیلی کے سبب چند ارکان میں ناراضگی پیدا ہوئی تھی جسے دور کرلیا گیا۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست سے جناب چودھری محبوب علی قیصر کی ملاقات کے دوران ان کے ہمراہ جناب جابر پٹیل کے علاوہ جناب عتیق صدیقی خرم اور دیگر موجود تھے۔صدرنشین حج کمیٹی نے کہا کہ موجودہ سنٹرل حج کمیٹی کے ارکان کافی سنجیدہ اور محنتی ہیں لیکن ان کے امور میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں تشویش کا شکار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ارکان اور حکومت بالخصوص وزارت اقلیتی امور سے تعلقات کے بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔جناب محبوب چودھری نے اس بات کا بھی انکشاف کیاکہ حج۔2018کے دوران حج کمیٹی سے روانہ ہونے والے عازمین حج کی تعداد میں 6ہزار کی کمی کرتے ہوئے یہ کوٹہ خانگی ٹور آپریٹر س کو دیا جائے گا اور اس بات پر حج کمیٹی کی جانب سے حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اور وزارت یہ کوٹہ خانگی ٹور آپریٹرس کے حوالے کرنے پر بضد ہے۔

TOPPOPULARRECENT