حج 2018 کیلئے حیدرآبادی عازمین کے کرایہ میں کوئی کمی نہیں

مرکزی حکومت سے سبسیڈی کو ختم کرنے کے بعد فضائی کرایوں میں کمی کا اعلان بے فیض
حیدرآباد۔ 28 ۔ فبروری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے حج 2018 ء سے حج سبسیڈی ختم کرتے ہوئے فضائی کرایوں میں کمی کا اعلان کیا ہے لیکن حکومت کے اس اعلان سے حیدرآباد سے روانہ ہونے والے عازمین حج کے کرایوں میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ملک کے تمام 21 امبارگیشن پوائنٹس کے لئے فضائی کرایہ میں کمی کا اعلان کیا ہے ۔ حیدرآباد سے روانہ ہونے والے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے عازمین کے علاوہ کرناٹک کے 5 اضلاع کے عازمین کرایہ میں کوئی خاص تبدیلی کا امکان نہیں ہے ۔ حیدرآباد سے روانہ ہونے والے حجاج کرام کو 2017 ء میں کوئی سبسیڈی حاصل نہیں ہوئی تھی، لہذا جاریہ سال مرکزی حکومت کے اعلان سے حیدرآباد امبارگیشن پوائنٹ کے کرایہ میں کسی کمی کے امکانات نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے حیدرآباد امبارگیشن پوائنٹ کے لئے فی عازم 65,766 روپئے کرایہ کا اعلان کیا ہے جبکہ 2017 ء میں فی عازم 62,065 روپئے کرایہ وصول کیا گیا تھا ۔ فضائی کرایوں کے تعین کے سلسلہ میں سنٹرل حج کمیٹی سے تمام حج کمیٹیوں کو احکامات کی وصولی کے بعد ہی نئے کرایے نافذ ہوں گے ۔ اسی دوران اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ 2014 ء سے 2016 ء تک فضائی کرایہ میں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے عازمین کو سبسیڈی حاصل ہوئی تھی جبکہ 2017 ء میں کوئی سبسیڈی نہیں دی گئی ۔ 2014 ء میں فضائی کرایہ 66,600 مقرر کیا گیا تھا اور سبسیڈی کے بعد 35,000 فی عازم وصول کئے گئے۔ اس طرح 31,600 کی سبسیڈی ہر عازم کو دی گئی تھی ۔ 2015 ء میں 68,288 فضائی کرایہ مقرر کیا گیا جبکہ حیدرآباد امبارگیشن پوائنٹ کے لئے فی عازم 42,000 روپئے وصول کئے گئے اور فی عازم 26,300 کی سبسیڈی حاصل ہوئی ۔ 2016 ء میں 56,868 کرایہ مقرر کیا گیا اور حیدرآباد کے لئے 11,850 سبسیڈی کے ساتھ فی عازم 45,000 وصول کئے گئے ۔ 2017 ء میں مرکزی حکومت نے ملک کے تمام 21 امبارگیشن پوائنٹس کے لئے فی عازم 62,065 کرایہ مقرر کیا اور جن ریاستوں میں زائد کرایہ ہے ، انہیں سبسیڈی فراہم کی گئی۔ حیدرآباد ، بنگلور اور ممبئی امبارگیشن پوائنٹس کے عازمین کو کرایہ میں کوئی سبسیڈی نہیں دی گئی اور حیدرآباد پوائنٹ کے عازمین سے فی کس 2065 اضافی کرایہ حاصل کیا گیا۔ حیدرآباد کا کرایہ 60,023 مقرر کیا گیا تھا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ نئے مقرر کردہ کرایوں سے ان ریاستوں کو فائدہ ہوگا جہاں طویل مسافتی سفر کے باعث کرایہ 70 تا 90 ہزار روپئے ہے۔ حیدرآباد سے چونکہ مسافت کم ہے ، لہذا حکومت کے کرایوں میں کمی کے اعلان سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل حج کمیٹی سے کرایہ کے بارے میں احکامات کی وصولی کے بعد منظر واضح ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT