Thursday , December 14 2017

حدیث

حضرت محمد بن ابوعمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ’’اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے وقت سے، بڑھاپے میں مرنے تک (اپنی پوری اور طویل زندگی کے دوران) صرف خدا کی اطاعت و عبادت میں سرنگوں رہے تو وہ بھی اس (قیامت کے) دن (عمل کا ثواب دیکھ کر) اپنی اس تمام طاعت و عبادت کو بہت کم جانے گا اور یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس کو دنیا میں پھر بھیج دیا جائے، تاکہ اس کا اجر و ثواب زیادہ ہو جائے‘‘۔ (اس روایت کو امام احمد نے نقل کیا ہے)
مطلب یہ ہے کہ عمر کا طویل ہونا خدا کی بہت بڑی نعمت ہے، بشرطیکہ اس لمبی عمر کو یونہی ضائع نہ کردیا جائے، بلکہ اس کو خدا کی طاعت و عبادت، دین کی خدمت اور اچھے کاموں میں صرف کیا جائے، لہذا عمر جس قدر زیادہ ہوگی، اسی قدر اعمال صالحہ بھی زیادہ ہوں گے اور اعمال صالحہ جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی زیادہ اجروثواب بھی حاصل ہوگا، جو قیامت کے دن سب سے بڑا سرمایہ ہوگا!۔
چنانچہ عبادت گزار زندگی کی اسی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ کوئی شخص اس دنیا میں پیدا ہوتے ہی یا یہ کہ بالغ ہوتے ہی خدا کی اطاعت و عبادت میں مصروف ہو جائے اور بڑھاپے کی عمر میں پہنچ کر وفات پانے کے وقت تک بس سجدہ و نماز ہی میں منہ کے بل پڑا رہے اور اس کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ دنیاوی کام میں صرف نہ ہو تو وہ شخص بھی قیامت کے دن طاعت و عبادت اور اعمال صالحہ کے اجر و ثواب کی فضیلت و اہمیت دیکھ کر اپنی اس طویل عمر کی تمام طاعات و عبادات کو بہت کم جانے گا اور یہی آرزو کرے گا کہ کاش! مجھے طاعت و عبادت اور اچھے اعمال کرنے کا اور موقع مل جائے اور مجھے دنیا میں واپس کردیا جائے، تاکہ میں وہاں زیادہ سے زیادہ عمل کرسکوں اور زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب لے کر یہاں آؤں!۔

TOPPOPULARRECENT