Thursday , December 14 2017

حدیث

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرے یہ رفقاء ( یعنی صحابۂ کرامؓ ) بھول گئے ہیں یا وہ بھولے تو نہیں ہیں مگر اپنی بعض مصلحتوں کی وجہ سے ، ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ بھول گئے ہیں ، خدا کی قسم ، رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے کسی بھی ایسے فتنہ پرداز کو ذکر کرنے سے نہیں چھوڑا تھا جو دنیا کے ختم ہونے تک پیدا ہونے والا ہے اور جس کے تابعداروں کی تعداد تین سو تک یا تین سو سے زائد تک ہوگی ، آپؐ نے ہر فتنہ پرداز کا ذکر کرتے وقت ہمیں اُس کا اور اُس کے باپ کا اور اس کے قبیلہ تک کا نام بتایا تھا ‘‘۔ (ابوداؤد)
’’فتنہ پرداز‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو فتنہ و فساد اور تباہی و خرابی کا باعث ہو ، جیسے وہ عالم جو دین میں بدعت پیدا کرے ۔ دین کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں لڑائے ، اُمّت میں افتراق و انتشار پیدا کرکے اسلام کی شوکت کو مجروح کرے اور جیسے وہ ظالم بادشاہ و امیر جو مسلمانوں کے باہمی قتل و قتال کا باعث ہو! ۔ ’’تین سو‘‘ کے عدد کی قید بظاہر اس لئے لگائی گئی ہے کہ کم سے کم اتنی تعداد میں آدمیوں کا کسی فتنہ پرداز کے گرد جمع ہوجانا اس فتنہ پرداز کی فتنہ پردازیوں کو پھیلانے ، فتنہ و فساد کی کارروائیوں کو اثرانداز ہوجانے اور دین و ملت کو نقصان پہنچ جانے کے لئے عام طورپر کافی ہوجاتا ہے ، اگر کسی فتنہ پرداز کے تابعداروں کی تعداد اس سے کم ہوتی ہے تو گو وہ انفرادی اور جزوی طورپر فتنہ پردازی میں کامیاب ہوجائے مگر اجتماعی طورپر اثرانداز ہونے کے قابل نہیں ہوتا!۔

TOPPOPULARRECENT