Tuesday , November 21 2017

حدیث

حضرت ابوسعید ابن فضالہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ’’جب اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن کہ جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ، لوگوں کو (حساب اور جزا و سزا کے لئے ) جمع فرمائے گا ،تو ایک اعلان کرنے والا فرشتہ یہ اعلان کرے گا کہ جس شخص نے اپنے اس عمل میں کہ جس کو اس نے خدا کے لئے کیا تھا ، خدا کے سوا کسی اور کو شریک کیا ہو (یعنی جس شخص نے دنیا میں ریا کے طورپر کوئی نیک عمل کیا ہو) تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے اس عمل کا ثواب اسی غیراﷲ سے طلب کرے جس کو اس نے شریک کیا تھا کیونکہ خدائے تعالیٰ شرک کے تئیں ، تمام شریکوں سے نہایت زیادہ     بے نیاز ہے ‘‘ ۔ (احمدؒ)
جب اﷲ تعالیٰ تمام لوگوں کو اس دن کے لئے جمع کرے گا کہ جس کا آنا یقینی امر ہے اور اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ، اور یہ جمع کرنا اس کے لئے ہوگا کہ ہر ایک کو اس چیز کے مطابق جزا و سزا دے جس کو اس نے دنیاوی زندگی میں اختیار کیا تھا ۔ اس اعتبار سے ’’یوم القیمۃ‘‘ مابعد کے الفاظ کی تمہید کے طورپر ہے ، تاہم اس کو جمع کا طرف بھی قرار دیا جاسکتا ہے ، اور اس کی تائید اس روایت کے مطابق الفاظ سے ہوتی ہے جو استعیاب میں نقل کی گئی ہے کہ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع فرمائے گا تاکہ اس دن سب کو جزا و سزا دے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT