Monday , December 11 2017

حدیث

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں یقیناً اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں دوخ سے نکالا جائے گا اور سب سے آخر میں جنت میں پہنچایا جائے گا۔ یہ ایک شخص ہوگا، جو گھٹنوں کے بل چل کر دوزخ سے باہر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ’’جا اور جنت میں داخل ہو جا‘‘۔ وہ شخص جب وہاں (جنت کے اندر یا جنت کے دروازہ پر) پہنچے گا تو اس کو جنت اس حال میں دکھائی دے گی کہ گویا وہ بالکل بھر گئی ہے (اور اس میں مزید کسی کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے)۔ وہ شخص عرض کرے گا کہ ’’میرے پروردگار! مجھے تو یہ جنت بالکل بھری ہوئی ملی ہے (یہاں میرے لئے کوئی جگہ نظر نہیں آرہی ہے؟)‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’تو جا اور جنت میں داخل ہو، وہاں تیرے لئے دنیا (کی مسافت) کے بقدر اور اس سے دس گنی مزید جگہ تیرے لئے (مخصوص کردی گئی) ہے‘‘۔ وہ شخص (انتہائی تحیر و استعجاب کے عالم میں) کہے گا کہ ’’(پروردگار!) کیا تو مجھ سے مذاق فرما رہا ہے؟ حالانکہ تو (بادشاہوں کا بھی) بادشاہ ہے‘‘۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات فرماکر ہنسے، یہاں تک کہ آپﷺ کی کچلیاں نظر آنے لگیں۔ اور کہا جاتا تھا کہ یہ شخص جنتیوں میں سب سے چھوٹے درجہ کا آدمی ہوگا۔ (بخاری و مسلم)
محدثین فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں جس شخص کا ذکر کیا گیا ہے اور جس کو جنت میں اتنی بڑی جگہ ملنے کا ذکر ہے، وہ مرتبہ اور درجہ کے اعتبار سے تمام جنتیوں میں سب سے کمتر درجہ کا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT