Monday , December 18 2017

حدیث

حضرت صہیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ’’مومن کی بھی عجیب شان ہے کہ اس کی ہر حالت اس کے لئے خیر و بھلائی کا باعث ہے اور یہ بات صرف مومن کے لئے مخصوص ہے کوئی اور اس کے وصف میں شریک نہیں ہے، اگر اس کو (رزق و فراخی و وسعت ، راحت ، چین ، صحت و تندرسی ، نعمت و لذّت اور طاعت و عبادت کی توفیق کی صورت ) خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے ، بس یہ شکر اس کیلئے خیر و بھلائی کا باعث ہوتا ہے اور اگر اس کو ( فقر و افلاس ، مرض و تکلیف ، رنج و الم اور آفات و حادثات کی صورت میں) مصیبت پہونچتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے ۔ پس یہ صبر بھی اس کیلئے خیر و بھلائی کا باعث ہوتا ہے ! ۔ (مسلمؒ)

ہر انسان اپنی شب و روز کی زندگی میں یاتو ایسی حالت سے دوچار ہوتا ہے جو اس کو رنج و تکلیف میں مبتلا کردیتی ہے یا وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ خوشی و مسرت محسوس کرتا ہے ۔ ان دونوں حالتوں سے کوئی شخص خالی نہیں ہوتا ، پس مومن کے لئے رنج و تکلیف میں مبتلا کرنے والی حالت صبر کا تقاضہ کرتی ہے اور خوشی و مسرت دینے والی حالت شکر کا ، اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں مقام یعنی صبر و شکر ، نہایت اعلیٰ ہیں اور بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث بنتے ہیں، اس طرح مومن گویا ہر حالت میں اعلیٰ مقام و مرتبہ اور بہت زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT