Thursday , November 23 2017

حدیث

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی  کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ’’یہ تو ابن آدم ( انسان ) ہے اور یہ اس کی موت ہے ‘‘ ۔ یہ فرماکر آپؐ نے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف رکھا (یعنی پہلے تو ایک جگہ اشارہ کرکے بتایا کہ یہ انسان ہے اور پھر اس جگہ سے ذرا پیچھے کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ اس کی موت ہے ) اس کے بعد آپؐ نے اپنے ہاتھ کو پھیلایا ( اور دور اشارہ کرکے ) فرمایا کہ اس جگہ انسان کی آرزو ہے ( یعنی انسان کی موت اس کے بہت قریب ہے جبکہ اس کی آرزو اس سے بہت دور ہے ) ۔ ( ترمذی)
’’یہ ابن آدم ہے ‘‘ میں گویا حضورﷺ نے مخاطبین کو ایک ظاہری اشارہ کے ذریعہ تصوراتی وجود کی طرف متوجہ کیا اور یہی اسلوب ’’یہ اس کی موت ہے ‘‘ بھی اختیار فرمایا گیا۔ اس بات کو وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ پہلے تو حضور ﷺ نے اپنے سامنے کی جانب زمین کے گوشہ پر یا ہوا میں اپنے ہاتھ کے ذریعہ اشارہ کرکے بتایا کہ اس جگہ کو تصور کرو کہ یہاں انسان ہے ، پھر اپنے ہاتھ کو پیچھے ہٹایا اور جس جگہ پہلے اشارہ فرمایا تھا اس کے بالکل قریب عقب میں ہاتھ کو رکھ کر بتایا کہ اس جگہ کو وہ مقام تصور کرو جہاں گویا انسان کی موت ہے ، اس کے بعد آپؐ نے اپنے ہاتھ کو بالشت اور انگلیوں کی کافی کشادگی کے ساتھ پھیلایا ۔ یا بسط کے معنیٰ یہ ہیں کہ ، آپؐ نے اپنے ہاتھ کو اس جگہ سے کہ جہاں آپؐ نے پہلے اشارہ فرمایا تھا ، بہت آگے تک دراز کیا اور وہاں اشارہ کرکے بتایا کہ اس جگہ وہ مقام تصور کرو جہاں گویا انسان کی آرزو ہے اور اس طرح آپؐ نے اس اسلوب بیان اور اشارہ کے ذریعہ گویا لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا ۔

TOPPOPULARRECENT