Friday , November 24 2017

حدیث

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تو ابن آدم (انسان) ہے اور یہ اس کی موت ہے‘‘۔ یہ فرماکر آپﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف رکھا (یعنی پہلے تو ایک جگہ اشارہ کرکے بتایا کہ یہ انسان ہے اور پھر اس جگہ سے ذرا پیچھے کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ اس کی موت ہے) اس کے بعد آپﷺ نے اپنے ہاتھ کو پھیلایا (اور دور اشارہ کرکے) فرمایا کہ ’’اس جگہ انسان کی آرزو ہے‘‘ (یعنی انسان کی موت اس کے بہت قریب ہے، جب کہ اس کی آرزو اس سے بہت دور ہے)‘‘۔ (ترمذی)
’’یہ ابن آدم ہے‘‘ میں گویا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطبین کو ایک ظاہری اشارہ کے ذریعہ تصوراتی وجود کی طرف متوجہ کیا اور یہی اسلوب ’’یہ اس کی موت ہے‘‘ میں بھی اختیار فرمایا گیا۔ اس بات کو وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ پہلے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے کی جانب زمین کے گوشہ پر یا ہوا میں اپنے ہاتھ کے ذریعہ اشارہ کرکے بتایا کہ اس جگہ کو یہ تصور کرو کہ یہاں انسان ہے، پھر اپنے ہاتھ کو پیچھے ہٹایا اور جس جگہ پہلے اشارہ فرمایا تھا، اس کے بالکل قریب عقب میں ہاتھ کو رکھ کر بتایا کہ اس جگہ کو وہ مقام تصور کرو جہاں گویا انسان کی موت ہے۔ اس کے بعد آپﷺ نے اپنے ہاتھ کو بالشت اور انگلیوں کی کافی کشادگی کے ساتھ پھیلایا۔ یا بسط کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ نے اپنے ہاتھ کو اس جگہ سے کہ جہاں آپﷺ نے پہلے اشارہ فرمایا تھا، بہت آگے تک دراز کیا اور وہاں اشارہ کرکے بتایا کہ اس جگہ کو وہ مقام تصور کرو، جہاں گویا انسان کی آرزو ہے اور اس طرح آپﷺ نے اس اسلوب بیان اور اشارہ کے ذریعہ گویا لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور متنبہ فرمایا کہ انسان کی موت اس کے بہت قریب کھڑی ہے، جب کہ اس کی وہ آرزوئیں اور امیدیں کہ جن کے پیچھے وہ مارا مارا پھرتا ہے، اس سے بہت دور واقع ہیں۔

TOPPOPULARRECENT