Friday , January 19 2018

حدیث

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت سے ستر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور (ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار اور میرے پروردگار کے چلوؤں میں سے تین چلو بھرکر لوگ جنت میں

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت سے ستر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور (ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار اور میرے پروردگار کے چلوؤں میں سے تین چلو بھرکر لوگ جنت میں جائیں گے‘‘۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
’’حساب و عذاب کے بغیر‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس سخت حساب کے مرحلہ سے نہیں گزرنا پڑے گا، جس میں بندہ پرسش و مواخذۂ دار و گیر اور سخت پوچھ تاچھ سے دوچار ہونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ’’ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ ستر ہزار لوگ تو حساب و عذاب کے مرحلہ سے گزرے بغیر جنت میں جائیں گے ہی، لیکن ان میں سے بھی ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور پھر اللہ تعالی اپنی تین چلو بھرکر اور لوگ ان کے ساتھ کردے گا۔ اب رہی یہ بات کہ ’’ستر ہزار سے کیا مراد ہے؟‘‘ تو ہو سکتا ہے کہ یہ خاص عدد ہی مراد ہو اور رہا یہ کہ اس عدد سے ’’کثرت‘‘ مراد ہے۔ نیز ’’تین چلوؤں‘‘ کے الفاظ بھی کثرت و مبالغہ سے کنایہ ہیں، پس حاصل یہ نکلا کہ اللہ تعالی میری امت کے اتنے زیادہ لوگوں کو کہ جو شمار بھی نہیں کئے جاسکتے، حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT