Thursday , September 20 2018

حدیث

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ دجال کے بارے میں جس قدر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اتنا کسی اور نے نہیں پوچھا۔ چنانچہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ’’دجال تمھیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ یعنی تمہارے اوپر چوں کہ حق تعالی کی عنایت و حمایت کا سایہ ہوگا، اس لئے دجال تمھیں

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ دجال کے بارے میں جس قدر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اتنا کسی اور نے نہیں پوچھا۔ چنانچہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ’’دجال تمھیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ یعنی تمہارے اوپر چوں کہ حق تعالی کی عنایت و حمایت کا سایہ ہوگا، اس لئے دجال تمھیں گمراہ نہیں کرسکے گا‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ ’’لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ (یعنی پہاڑ کے بقدر غذائی ضروریات کا ذخیرہ) ہوگا اور پانی کی نہر، اس وقت جب کہ لوگ قحط سالی کا شکار ہوں گے، اگر کوئی شخص بھوک و پیاس سے اضطرار کی حالت کو پہنچ جائے تو وہ کیا کرے؟‘‘۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دجال اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ ذلیل ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)
’’اس سے زیادہ ذلیل ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ دجال اپنی طاقت و قوت کے جو مظاہرے پیش کرے گا، وہ سب بے حقیقت ہوں گے کہ ان چیزوں کی حیثیت شعبدہ بازی، فریب کاری اور نظر بندی سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوگی۔ وہ خدا کے نزدیک اس قدر ذلیل و بے حیثیت ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کو اتنی زیادہ طاقت و قدرت عطا نہیں ہوسکتی اور وہ اس بات پر قادر ہی نہیں ہوسکتا کہ اپنے عقیدہ و عمل پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اہل ایمان کو گمراہ کرسکے۔ لہذا اہل ایمان دجال کی اس مافوق الفطرت طاقت کو دیکھ کر، جو صرف ظاہر میں طاقت نظر آئے گی اور حقیقت میں دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا، ہرگز خوف زدہ نہیں ہوں گے، بلکہ وہ تو اس کی شعبدہ بازیوں اور اس کے محیر العقول کارناموں کو دیکھ کر اس کے دجل و فریب اور جھوٹ پر اپنے یقین کو اور زیادہ پختہ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT