Wednesday , January 24 2018

حدیث

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (بارگاہ رسالت میں) حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ!

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (بارگاہ رسالت میں) حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ! مجھ کو کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ میں جب اس کو اختیار کروں تو اللہ تعالی بھی مجھ سے محبت فرمائے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں؟‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دنیا سے زہد اختیار کرو (یعنی دنیا کی محبت میں گرفتار نہ ہو، اس کی فضولیات سے اعراض کرو اور امور آخرت کی طرف متوجہ ہو) اگر تم ایسا کروگے تو (گویا تم اس چیز سے نفرت کرنے والے ہوں گے، جس سے اللہ تعالی نفرت کرتا ہے اور اس کی وجہ سے) اللہ تعالی تم سے محبت فرمائے گا اور اس چیز کی طرف رغبت نہ کرو جو لوگوں کے پاس ہے (یعنی جاہ و دولت) لوگ تم سے محبت کریں گے‘‘۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

کسی چیز کی طرف خواہش و میلان نہ رکھنے کو ’’زہد‘‘ کہتے ہیں اور کامل و صادق زہد یہ ہے کہ دنیا کی لذات میسر ہونے کے باوجود ان سے بے رغبتی اختیار کی جائے۔ چنانچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس شخص کے بارے میں ’’زہد‘‘ تصور ہی نہیں ہوسکتا، جو نہ مال و دولت رکھتا ہو اور نہ جاہ و حشم کا مالک ہو، بلکہ حقیقت کے اعتبار سے ’’زاہد‘‘ وہی شخص ہے جو مال و دولت اور جاہ و حشم کا مالک ہونے کے باوجود ان کی لذات سے دور رہے۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو ’’یازاہد‘‘ کہہ کر مخاطب کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ’’زاہد تو بس حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ تھے، جن کے دامن میں دنیا کھنچی آتی تھی، مگر اس کے باوجود وہ دنیاوی لذات سے ترک تعلق رکھتے تھے اور ہمارے پاس کیا رکھا ہے کہ ہم زہد اختیار کریں گے‘‘۔ حاصل یہ کہ اصل میں ’’زہد‘‘ یہ ہے کہ لوازمات دنیا میں کھانے پینے اور پہننے کی فراوانی کے باوجود بقدر ضرورت پر قناعت کی جائے اور فضولیات کو ترک کیا جائے!۔

TOPPOPULARRECENT