Friday , November 24 2017

حدیٹ

نبی کریم ﷺ کی قبولیت اور برکت کی دعا
عَنْ أَنَسٍ رضي اللہ عنه أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَي النَّبِيِّﷺ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ بِالْمَدِيْنَةِ، فَقَالَ : قَحَطَ الْمَطَرُ، فَاسْتَسْقِ رَبَّکَ. فَنَظَرَ إِلَي السَّمَاءِ وَمَا نَرَي مِنْ سَحَابٍ، فَاسْتَسْقَي، فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَي بَعْضٍ، ثُمَّ مُطِرُوْا حَتَّي سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِيْنَةِ، فَمَا زَالَتْ إِلَي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذَلِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَالنَّبِيُّ ﷺ يَخْطُبُ، فَقَالَ : غَرِقْنَا، فَادْعُ رَبَّکَ يَحْبِسْهَا عَنَّا، فَضَحِکَ ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا. مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِيْنَةِ يَمِيْنًا وَشِمَالًا، يُمْطَرُ مَا حَوَالَيْنَا وَلَا يُمْطَرُ مِنْهَا شَيئٌ، يُرِيْهِمُ اﷲُ کَرَامَةَ نَبِيِهِ ﷺ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے اس نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) بارش نہ ہونے کے باعث قحط پڑ گیا ہے لہٰذا اپنے رب سے بارش مانگئے، تو آپ ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور ہمیں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے بارش مانگی تو فوراً بادلوں کے ٹکڑے آکر آپس میں ملنے لگے پھر بارش ہونے لگی یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی گلیاں بہہ نکلیں اور بارش متواتر اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا جبکہ حضور نبی اکرم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے : (یا رسول اﷲ!) ہم تو غرق ہونے لگے لہٰذا اپنے رب سے دعا کیجئے کہ اس بارش کو ہم سے روک دے۔ آپ ﷺ مسکرا پڑے اور دعا کی : اے اﷲ! ہمارے اردگرد برسا اور ہمارے اوپر نہ برسا ایسا دو یا تین دفعہ فرمایا۔ سو بادل چھٹنے لگے اور مدینہ منورہ کی دائیں بائیں جانب جانے لگے چنانچہ ہمارے اردگرد (کھیتوں اور فصلوں پر) بارش ہونے لگی ہمارے اوپر بند ہو گئی۔ یونہی اﷲ تعالیٰ اپنے نبی کی برکت اور ان کی قبولیتِ دعا دکھاتا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT