Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / حرمین شریفین میں تصویر کشی و ویڈیو بنانے پر امتناع

حرمین شریفین میں تصویر کشی و ویڈیو بنانے پر امتناع

سعودی وزارت خارجہ کا فیصلہ ۔ میڈیا پر بھی اطلاق ۔ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی

ریاض 23 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب میں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کی جانب سے تصویر کشی اور ویڈیو بنانے پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں یہ بات بتائی گئی ۔ سعودی جنرل ڈائرکٹوریٹ آف پریس اینڈ انفارمیشن کے بموجب مسجد حرام ( مکہ مکرمہ ) اور مسجد نبوی ﷺ( مدینہ منورہ ) میں تصویر کشی اور پر امتناع عائد کرنے کا فیصلہ سعودی وزارت خارجہ نے 12 نومبر کو کیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس امتناع کا اطلاق نہ صرف زائرین پر بلکہ وہاں میڈیا پر بھی ہوگا ۔ اس امتناع کا فیصلہ ان دونوں حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے ۔ بیان کے بموجب اس امتناع کا اطلاق حرمین شریفین کے اطراف دیگر مساجد کے پاس بھی ہوگا ۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس امتنا ع کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ زائرین کی جانب سے تصویر کشی اور ویڈیو بنانے کی وجہ سے وہاں نمازیوں اور عبادات میںمصروف افراد کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امتناع اس لئے بھی عائد کیا گیا ہے تاکہ وہاں زائرین صحتمندانہ ماحول میں اور پرکسون انداز میں عبادات کرسکیں۔ اگر اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو وہاں بنائی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز کو ضبط کرلیا جائیگا اور قانونی کارروائی بھی کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ یہ امتناع ایسے وقت میں عائد کیا گیا ہے جب یہ اطلاعات سوشیل میڈیا اور انٹرنیٹ پر گشت کر رہی تھیں کہ ایک اسرائیلی یہودی نے حالیہ دنوں میں مسجد نبوی ﷺ کا دورہ کیا تھا ۔ اس یہودی کی ایک تصویر بھی سوشیل میڈیا پر پھیلائی جا رہی تھی ۔ اس کا دعوی تھا کہ اس نے مسجد نبوی ﷺ کے علاوہ ایران ‘ لبنان اور اردن میں دیگر مقامات کا بھی دورہ کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT