حریفوں پر کاشتکاروں کیلئے ’’مگرمچھ کے آنسو‘‘ بہانے کا الزام

MIRZAPUR, JULY 15 (UNI):- Prime Minister, Narendra Modi dedicates the Bansagar Canal Project to the Nation, lays the Foundation Stone of Mirzapur Medical College and inaugurates 100 Jan Aushadhi Kendras in the State, at a function, in Mirzapur, Uttar Pradesh on Sunday. Governor of Uttar Pradesh, Ram Naik, the Chief Minister of Uttar Pradesh, Yogi Adityanath, the Minister of State for Health and Family Welfare, Anupriya and other dignitaries are also seen. UNI PHOTO-85U

مرزا پور میں میڈیکل کالج کا افتتاح اور سب ساگر پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد وزیراعظم مودی کا عام جلسہ سے خطاب

مرزا پور (یو پی ) ۔15جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس اور دیگر پارٹیاں ’’مگرمچھ کے آنسو ‘‘ کاشتکاروں کیلئے بہارہے ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ملک میں ترقیاتی اور آبپاشی پراجکٹس کو ان کے دور حکومت میں نئی زندگی دی گئی ‘ جبکہ سابق حکومت نے انہیں نظرانداز کردیا تھا ۔ ایک عام جلسہ سے سب ساگر کنال پراجکٹ کا رسم افتتاح انجام دینے اور مرزا پور میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کے نام پر سیاست کی جارہی ہے اور حریفوں کو اقل ترین امدادی قیمت میں موثر اضافہ پر غور کرنے کی بھی فرصت نہیں ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ دن دور نہیں جب کہ کاشتکاروں کی آمدنی ان کی حکومت کی کوششوں سے دوگنی ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ کاشتکاروں کیلئے ’’ مگر مچھ کے آنسو ‘‘ بہا رہے ہیں اُن سے سوال کیا جانا چاہیئے کہ پورے ملک میں ان کے دور اقتدار میں آبپاشی پراجکٹس کیوں مکمل نہیں ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ صرف بان ساگر کا نہیں اسی قسم کی کئی جھلیں اپنے احیاء کی منتظر ہیں ۔ کاشتکاروں سے متعلق پراجکٹ مختلف ریاستوں میں لاپرواہی کاشکار ہیں جن کی کسی کو بھی پرواہ نہیں ہے ۔ ایسے پراجکٹس ادھورے کیوں چھوڑ دیئے گئے ہیں ۔وزیراعظم نے سوال کیا کہ 4000کروڑ روپئے مالیاتی پراجکٹس بشمول ان ساگر پراجکٹ کا انہوں نے رسم افتتاح انجام دیا یا سنگ بنیاد رکھا ہے ۔ یہ تمام پراجکٹس آبپاشی ‘ صحت اور ٹرانسپورٹیشن سے متعلق ہیں‘ جن سے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور کاشتکاروں کے نام پر سابق حکومتوں نے پراجکٹس کو ادھورا چھوڑ دیا یا ان کی تکمیل میں تاخیر کی ۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر مقامی بولی میں شروع کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس تاخیر کی وجہ سے عوام برسوں سے مصائب کا شکار ہیں ۔ بان ساگر پراجکٹ کی مالیت 3500کروڑ روپئے ہیں جس سے مرزا پور کو فائدہ پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پراجکٹ جلد از جلد مکمل ہوجائے تو اس کے فوائد جو آپ کو پہنچیں گے برسوں پہلے پہنچنے چاہیئے تھے ۔ تقریباً 20سال ضائع کردیئے گئے ۔ سابق حکومتوں نے کاشتکاروں کی پرواہ تک نہیں کی ۔ اس پراجکٹ کا جو منصوبہ 1978ء میں تقریباً 40سال قبل بنایا گیا تھا اور اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا لیکن کام 20 سال بعد شروع ہوا ۔ حکومت آگے آئی لیکن اس پراجکٹ کے بارے میں صرف خوشحالی کے وعدے اور باتیں کی گئیں ۔ کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ وزیراعظم اعظم گڑھ اور اپنے لوک سبھا انتخابی حلقہ وارناسی میں بھی کل عام جلسوں سے خطاب کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کئی ترقیاتی پراجکٹس قوم کے نام معنون کئے اور کئی نئی اسکیموں کا گذشتہ دو دن میں اعلان کیا ۔ انہوں نے اپوزیشن پر پراجکٹ کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ اگر بان ساگر پراجکٹ مقررہ وقت پر مکمل ہوجاتا تو اس کی لاگت 3000کروڑ روپئے ہوتی جو اب 3500کروڑ روپئے ہوگئی ہے ۔

مدناپورمیں آج عام جلسہ سے وزیراعظم کا خطاب
کولکتہ ۔15جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی کل مدناپور(مغربی بنگال) میں کاشتکاروں کے ایک عام جلسہ سے خطاب کریں گے اور خریف کی تازہ ترین فصل کیلئے اقل ترین امدادی قیمت میں اضافہ کے مرکزی حکومت کے حالیہ فیصلہ پر زور دیں گے ۔ مدنا پور میں مودی کا جلسہ عام قومی صدر بی جے پی امیت شاہ کی 29جون کو ضلع پورولیا میں عام جلسہ سے خطاب کے 15دن بعد ہورہا ہے ۔ وزیراعظم کاعام جلسہ مدنا پور میں منعقد ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال بھگوا پارٹی کی اولین ترجیحی ریاستوں میں سے ایک ہوگی ۔ بھگواپارٹی مغربی بنگال کے مختلف ضمنی انتخابات میں ریاست میں اپنا مقام پیدا کرچکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT