حزب اختلاف کی جماعتیں راجیہ سبھا میں تین طلاق بل کے لئے روک لگانے کی تیاری میں 

New Delhi: Muslim women at Parliament on Jan 3, 2018. The government on Wednesday tabled the triple talaq bill in the Rajya Sabha amid uproar, with the Congress and other opposition parties demanding that it be referred to a parliamentary panel for detailed consideration. The government has got the Bill passed in the Lok Sabha, ignoring the opposition's demand to refer the Bill to a Parliamentary Standing Committee for closer scrutiny.(Photo: IANS)

ہوسکتا ہے حزب اختلاف کی جماعتیں مسلم ویمن( شادی پرتحفظ وحقوق) بل2017‘ جس کو تین طلاق بل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے میں خلل پیدا کرسکتی ہیں ‘ جس کو پوری شدت کے ساتھ نریندر مودی کی زیرقیادت نیشنل ڈیموکرٹیک الائنس ( این ڈی اے) حکومت ایوان راجیہ سبھا میں 18جولائی سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس کے دوران آگے بڑھائے گی
نئی دہلی۔ایوان لوک سبھا میں پچھلے سال 18ڈسمبر کو مذکورہ بل منظور کرتے ہوئے کسی بھی صورت میں چاہئے وہ تحریری ہو یا زبانی یا پھر ای میل کے ذریعہ ہو‘ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ کے ذریعہ ایک نشست میں تین طلا ق کو غیرقانونی قراردیا گیا تھااور اس کے لئے شوہر کو تین سال قید کی سزاء کا بھی قانون بنایاگیا۔کانگریس نے لوک سبھا میں بل کے خلاف ووٹ نہیں کیاتھا

۔ذرائع کا کہنا ہے مذکورہ بل میں کانگریس او ردیگر حز ب اختلاف کی جماعتوں جس طرح کی ترمیم چاہتے ہیں وہ نہیں عمل میں لائی گئی ہے جس کی وجہہ سے ہوسکتا ہے جہاں پر این ڈی اے کی اکثریت نہیں ہے وہاں ایوان راجیہ سبھا میںیہ بل گر جائے گااور ہوسکتا ہے کہ یہ جائزہ لینے کے لئے منتخب کمیٹی کو روانہ کردیاجائے گا۔

ذرائع کے مطابق کانگریس ترمیم چاہا رہی ہے جیسا کہ سابق بل میں لوک سبھا میں کیاگیاتھا‘ ان کے دعوے کے مطابق بل میں بے شمار خامیاں ہیں۔ یہ پارٹی چاہتی ہے کہ قانون بننے سے قبل بل سے ان خامیوں کو دور کیاجائے۔

لہذا وہ مذکورہ بل منتخب کمیٹی کو روانہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالے گی۔

کانگریس چاہتی ہے کہ جیل کی سزاء کے متعلق پر غور کرانا چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کس طرح طلاق دینے کے بعد ایک مرد اپنی بیوی کو بچوں کو ساتھ رکھ کر گذر بسر کے پیسہ ادا کرسکتا ہے۔

سنڈے گارڈین سے بات کرتے ہوئے کانگریس ترجمان میم افضل نے کہاکہ حالانکہ ان کی پارٹی بل کے خلاف نہیں ہے‘ اس میں ایسی غلطیاں جو قانونی چارہ جوئی کا سامنا بھی نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہاکہ ’’ کانگریس کی پارلیمانی پارٹی اس پر آخری فیصلہ کریگی۔

مگر قانونی ماہرین کچھ شرائط پر انگلیاں اٹھارہے ہیں۔ ان شرائط کے متعلق حکومت نے کوئی غور وفکر نہیں کی ہے۔

بل کی مخالفت کرنے والی کئی جماعتیں لوک سبھا میں ووٹنگ سے غیر حاضر رہی ہیں۔ ان میں سے بیجو جنتادل ‘ اے ائی اے ڈی ایم کے‘ ترنمول کانگریس‘ راشٹرایہ جنتا دل‘ اے ائی ایم ائی ایم‘ اور انڈین یونین مسلم لیگ( ائی یو ایم ایل) شامل ہیں۔ذرائع کا کہناہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے تبدیلی کے لئے جو گذارش کی ہے اس کوبرسراقتد ار این ڈی اے ممکن ہے قبول کرلی گی کیونکہ این ڈی اے کے پاس راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں ہے۔

یا نہیں تو اس میں ترمیم کی جائے گی نہیں تو جائزہ لینے کے لئے منتخب کمیٹی کے پاس بھیج دیاجائے گا‘

مذکورہ بل مانسون اجلاس میں پاس ہونے کی توقع نہیں ہے۔لالو پرساد یاد و کی آرجے ڈی کے ترجمان منوج جہا نے بتایا کہ ’’ ہم نے ہمیشہ اس مسلئے پر اصولوں پر مشتمل موقف کو اپنا یا ہے۔

بل پیش کرنے کا یہ وقت صحیح نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلے دیا اور مسلم سماج کے اندر عدم اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔

جہانے مزیدکہاکہ ’’ اسکی منظوری کے لئے حکومت کو مزید وقت دینا چاہئے۔

اس کے علاوہ لوک پال بل کی طرح نہیں دیگر پارٹیوں اور ریاستی حکام نے جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کے متعلق بات بھی نہیں کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ جیل میں رہنے والے فرد سے گذارے کی رقم کس طرح حاصل کی جائے گی اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ یہ بل تین طلاق کو جرم بنادیتا ہے‘ مگر دوبارہ بحالی کی کوئی گنجائش اس میں نظر نہیںآرہی ہے۔

اٹھار ہ دنوں کے ہنگامی مجوزہ مانسون اجلاس شوروغل کی نظر ہوتا دیکھائی دے رہا ہے

TOPPOPULARRECENT