Friday , November 24 2017
Home / مضامین / حساس اور قومی سلامتی کے مسئلہ پر سیاست یہ کہاں آگئے ہم …؟

حساس اور قومی سلامتی کے مسئلہ پر سیاست یہ کہاں آگئے ہم …؟

خلیل قادری
جس وقت سے ہندوستان نے لائین آف کنٹرول کے پار پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے سرجیکل حملے کئے ہیں اس وقت سے ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔ ان حملوں پر سیاست کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ ان حملوں کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں سرجیکل حملے ہی موضوع بحث بن گئے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد سرحد پار کی دہشت گردی کو ختم کرنا تھا ۔ دہشت گردوں کے نشانوں کو تباہ کرنا تھا ۔ ان حملوں کا مقصد دہشت گردی کی لعنت کی سمت ساری دنیا کی توجہ مبذول کروانا تھا ۔ ان حملوں کا مقصد ہندوستان کی قومی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے کمربستہ رہنے کا پیام دینا تھا ۔ ان حملوں کا مقصد دشمن کو خبردار کرنا تھا ۔ ان مقاصد میں ہم کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اور آگے کیا کرنا ہے اس کا جائزہ لینے سے قبل ہی ایسا ماحول پیدا کردیا گیا کہ یہ حملے اور ان کا مقصد کہیں پس منظر میں چلے گئے ہیں اور اب نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ جس وقت مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل حملے کئے گئے تھے اس وقت سارے ہندوستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔ اس وقت ہر ہندوستانی شہری اپنے آپ میں فخر محسوس کر رہا تھا ۔ ہر ہندوستانی شہری کے اعتماد کو نئی تقویت مل گئی تھی ۔ یہاں یہ سوال نہیں تھا کہ حملے کرنے کا سہرا کس کے سر جاتا ہے اور اس پر شاباشی کس کو دی جانی چاہئے ۔ سارے ہندوستان نے ‘ سارے ملک کے عوام نے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ایک آواز ہوکر ہندوستانی فوج کی کارروائی کی ستائش کی تھی اور بے انتہا خوشی کا اظہار کیا تھا لیکن چند دنوں کے اندر اندر صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا گیا ہے اور ایسے مباحث شروع کردئے گئے ہیں جن کا قومی سلامتی یا ملک کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس سے صرف سیاسی مقصد براری کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے قومی مفاد کو کہیں پس منظر میں ڈھکیل دیا گیا ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس سے گریز کیا جانا چاہئے تھا اور گریز کیا جاسکتا تھا ۔ ہندوستان میں سیاسی کھیل کھیلنے کیلئے کئی مسائل ہیں اور سیاسی جماعتیں ہر مسئلہ کا استحصال کرتی ہیں اور اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں لیکن قومی سلامتی جیسے حساس مسئلہ پر سیاست کرنے کی کسی صورت میں مدافعت نہیں کی جاسکتی اور نہ اس کا کوئی جواز ہوسکتا ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ ملک کی حکمران جماعت کے قائدین ہوں یا حزب مخالف کے قائدین ہوں کسی نے بھی اس حساس مسئلہ کی اہمیت کو سمجھنا گوارا نہیں کیا اور وہ فوری سیاسی مقصد براری پر اتر آئے تھے ۔

جس وقت ڈائرکٹر جنرل ملٹری آپریشنس نے مقبوضہ کشمیر میں کئے گئے سرجیکل حملوں کا اعلان کیا اس وقت سارا ہندوستان مسرور اور ایک رائے تھا ۔ فوج کی جانب سے حملوں کا اعلان ایک حکمت عملی اقدام تھا ۔ اس سے حکومت نے اپنے آپ کو دور رکھا تھا ۔ یہ ایک اچھا قدم تھا ۔ تاہم چند گھنٹوں کے اندر اندر بی جے پی قائدین کی جانب سے ان حملوں پر اپنے سینے آپ ٹھونکنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ بی جے پی کی مختلف یونٹوں کی جانب سے اتر پردیش اور پنجاب میں دوسرے ہی دن سے بیانرس اور پوسٹرس لگانے شروع ہوگئے ۔ ان تصاویر میں لارڈ رام کے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کو اور راون کے طور پر پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی تصویر کو پیش کیا گیا تھا ۔ یہ پہلو دسہرہ تہوار کو دیکھتے ہوئے اختیار کیا گیا تھا ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان سرجیکل حملوں پر کسی کو سہرا اپنے سر لینے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ اس کا کوئی جواز ہوسکتا ہے ۔ جو کارروائی کی گئی ہے وہ ہماری بہادر فوج نے کی تھی اور اس کا سہرا صرف اور صرف فوج کے سر ہی جاتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب پوسٹرس لگائے تو ان فوجیوںکی تصاویر نہیں تھیں جنہوں نے ان سرجیکل حملوں میں حصہ لیا تھا ۔ سارے پوسٹرس میں کہیں بھی فوج کی بہادری اور اس دلیرانہ کارروائی کا کوئی تذکرہ ہی نہیں کیا گیا تھا ۔ یہ در اصل فوج کے کارنامہ کا سہرا اپنے سر لینے اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کوشش تھی ۔ یہ کوشش ادنی سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے کی گئی تھی ۔ اس کے سیاسی مقاصد اس حقیقت سے بھی آشکار ہوجاتے ہیں کہ یہ پوسٹرس اتر پردیش اور پنجاب میں ہی لگائے گئے تھے جہاں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی اتر پردیش میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے تیار ہے اور پنجاب میں وہ اکالی دل کے ساتھ مل کر اپنا اقتدار بچانے کی فکر میں مصروف ہے ۔ ایسے میں اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے فوج کے کارنامے کو اپنے سر لینے کی کوشش کی گئی ۔ در اصل یہ کوشش فوج کے کارناموں کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش تھی جس سے ہر ایک کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ حملوں کے فوری بعد جو گہما گہمی کا ماحول پیدا کردیا گیا تھا اور مختلف گوشے مختلف انداز میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔ میڈیا چینلوں پر الگ اپنے ڈھنگ سے ان حملوں کو رنگ دینے کی کوششیں ہو رہی تھیں ایسے میں تضادات پیدا ہوگئے اور پھر یہ سوال اٹھنے لگے کہ کیا واقعی یہ حملے ہوئے ہیں ؟ ۔ یہ سوال کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے لیکن ایسا سوال ہمارے سیاسی قائدین اور بے چینی کا شکار میڈیا چینلوں نے پیدا کردیا ہے ۔

جہاں تک پاکستان کاسوال ہے وہ ابتداء سے ان حملوں کی حقیقت سے انکار کر رہا ہے ۔ حالانکہ خود پاکستان میں اس مسئلہ پر تضاد بیانی ظاہر ہوگئی ہے ۔ ایک گوشے حملوں سے انکار کر رہا ہے تو دوسرا گوشہ ان کو بنیاد بناکر مخالف ہند جذبات اور منافرت کا بازار گرم کرنے کوشاں ہے ۔ دہشت گرد تنظیمیں الگ اپنے سر ابھارنے کی تگ و دو میں جٹ گئی ہیں اور شیخ چلی جیسے دعوے کرتے ہوئے اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پاکستانی حکومت تاہم اپنے عوام کو یہ یقین دلانے کوشش کر رہی ہے کہ ایسے کوئی سرجیکل حملے ہوئے ہی نہیں ہیں۔ وہ بین الاقوامی میڈیا پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کروائے جا رہے ہیں۔ انہیں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہاں کچھ ہوا ہی نہیں ہے تاہم ہندوستان نے بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ویڈیوز پیش کرتے ہوئے ان حملوں کی صداقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہندوستان کی فوج نے اپنے طور پر قابل احترام خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے ۔ فوج نے اپنا کام پورا کردیا ہے ۔ اس نے دشمن کو جو پیام دینا تھا وہ دیدیا ہے ۔ دہشت گردوں کی  صفوں میں خوف پیدا کردیا ہے اور پھر حالات کو محسوس کرتے ہوئے اس نے حکومت کو بھی ان حملوں کی تفصیلات سے واقف کروادیا ہے ۔ فوج کا جو رول ہے وہ قابل احترام ہے لیکن اس پر سیاست کی کوششیں اور بھی تیز ہوگئی ہیں۔ کوئی ان حملوں کی صداقت پر سوال کرنے لگا ہے تو کوئی ان حملوں پر خود اپنا سینہ ٹھونک کر خود کو شاباشی دینے میں مصروف ہے ۔ یہ حقیقت سبھی کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ کارروائی ہوئی ہے اور حملے کئے گئے ہیں وہ کسی سیاسی جماعت نے نہیں کئے ہیں نہ ہی سیاسی جماعتوں کی ایما پر یا ان کی خواہشات پر کئے گئے ہیں۔ یہ کارروائی ہماری بہادر فوج نے کی ہے ۔ اس نے حالات اور ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے جو بہتر سمجھا ہے وہ کیا ہے اور سارے ملک نے اس کو قبول بھی کیا ہے اور اس کی ستائش بھی کی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو اس سے دور رہنے کی ضرورت تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔

جہاں بی جے پی قائدین فوج کے اس کارنامے کو اپنے سر باندھنے کی کوشش کر رہے تھے اس کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے اپنے موقف کو بھی بہتر بنانے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ ملک کے وزیر اعظم پر مسلسل تنقیدوں کیلئے شہرت رکھنے والے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے تک بھی وزیر اعظم کی ستائش کی تھی اور کہا تھا کہ ڈھائی سال کے عرصہ میں پہلی مرتبہ نریندر مودی نے وزیر اعظم کی طرح کوئی کام کیا ہے ۔ یہ پہلو ایسا تھا جو ہماری فوج کی کارروائی کی وجہ سے ممکن ہوسکا تھا ۔ اس کو برقرار رکھنے کی ضرورت تھی لیکن ایسا بالکل نہیں کیا گیا ۔ خود وزیر اعظم اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے اور جب انہوں نے زبان کھولی بھی تو اس وقت تک تاخیر ہوگئی تھی ۔ انہوں نے سیاسی قائدین اور خود اپنی جماعت کے قائدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس مسئلہ پر اپنا سینہ ٹھونکنے کا سلسلہ بند کریں کیونکہ یہ کارروائی فوج نے کی تھی ۔ جس وقت تک وزیر اعظم حرکت میں آئے اور اپنے ساتھیوں کو انہوں نے کوئی ہدایت دی اس وقت تک کافی تاخیر ہوگئی تھی اور جو خوشی اور مسرت کا بلکہ ساری قوم کے اتحاد کا ماحول سرجیکل حملوں کے فوری بعد پیدا ہوگیا تھا اسے چند مفادات حاصلہ اور مفاد پرست سیاستدانوں نے پراگندہ کردیا تھا ۔ ایسی صورتحال میں سارے ملک و قوم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست کو قومی مفادات اور سلامتی سے بالکل الگ رکھا جانا چاہئے ۔ قوم کی سلامتی سب کیلئے مقدم ہے اور اس پر کسی قسم کی اوچھی سیاست یا مفاد پرستی کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ملک کے عوام کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے سیاست دانوں کو مسترد کردیں جو فوج کے کارناموں کو اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتے ہیں اور قومی سلامتی جیسے مسئلہ پر بھی سیاست کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔

TOPPOPULARRECENT