Monday , December 11 2017
Home / مذہبی صفحہ / حسرت ان غنچوں پہ ہے جوبن کھلے مرجھاگئے

حسرت ان غنچوں پہ ہے جوبن کھلے مرجھاگئے

بچوں پرظلم وزیادتی کوئی نئی بات نہیں ہے ،دورجاہلیت میں فقروفاقہ کے خوف سے بچوں کوموت کی نیندسلادیا جاتا تھا،اسلام آیا تو اس رسم بدکا خاتمہ ہوا۔قرآن مجید میں غربت ومحتاجی کے اندیشے سے بچوں کا قتل کرنے سے منع کیا گیا،ارشادباری ہے’’اپنی اولاد کو فقروفاقہ کے خوف سے قتل مت کروہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اورتم کو بھی بے شک ان کا قتل بہت بڑا گناہ ہے‘‘(بنی اسرائیل:۳۱)نام وناموس اورخاندانی وقار کے جنون کی وجہ کم سن بچیوں کو زندہ درگورکرنے کی ریت جاہل عربوں میں رائج تھی۔’’ان میں سے جب کسی کولڑکی کی خوشخبری سنائی جاتی تو ان کے چہرے سیاہ پڑجاتے ،دل ہی دل میں وہ گھٹنے لگتے اوردل غیض وغضب سے بھر جاتے ‘‘(النحل:۵۸) سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ دورجاہلیت کی ظالمانہ رسوم ورواجات اورانکی سفاکانہ طرز حیات سے بڑے رنجیدہ خاطرتھے،آپ ﷺ بڑے رحیم وکریم ،شفیق ومہربان تھے ،اللہ سبحانہ نے آپ کے ان اوصاف جمیلہ کا تذکرہ قرآن پاک میں فرمایا ہے’’تمہارے ہاں ایسے رسول تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں ، تمہارے نقصان وضررکی بات جن پرنہایت گراں گزرتی ہے،جو تمہارے نفع کے بڑے حریص اوردلی خواہشمند ہیں ایمان والوں پر تو بے نہایت شفیق اوربڑے مہربان ہیں‘‘(التوبہ:۱۲۸)آپ َﷺ کی رحمت بے کراں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن پاک میں ارشادہے’’اورہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر مبعوث کیا ہے‘‘(الانبیاء:۱۰۷)آپ ﷺ نے اپنی بعثت مبارکہ کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :وانما انا بعثت رحمۃ(صحیح مسلم:۲۰۰۶) اورفرمایا :میں مجسم پیکر رحمت بن کر آیا ہوں اوریقینا میری ذات جہاں والوں کے لئے ایک گرانمایہ تحفہ وہدیہ ہے (الجامع الصغیر:۲۳۴۵)سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا قلب اطہر بے پناہ محبت کا خزینہ تھا، انسانیت کو شرمسارکرنے والا ہرواقعہ آپ ﷺکو اشکبارکردیتا ،چنانچہ ایک شخص نے اپنے دورجاہلیت کی غمناک کہانی آپ ﷺ کے سامنے سنائی ’’میری ایک ننھی منھی معصوم بچی تھی جب وہ سات سال کی ہوگئی تو میں نے اس کی ماں سے کہا کہ اسے عمدہ پوشاک پہنائے ،

اسے میں دعوت میں لیجاناچاہتاہوں ،پھرمیں اسے لیے گھر سے چل پڑا،وہ معصوم جان اپنے اندوہناک انجام سے بے خبرشاداں وفرحاں اپنے باپ کی انگلی تھامے خراماں خراماں چلنے لگی،وہ تو اس تصورسے خوش تھی کہ اسے سیر وتفریح کے مزے لوٹنے ہیں لیکن خاندانی غیرت وحمیت کا بھوت مجھ پر کچھ ایسا سوار تھا کہ مجھے معصوم جان پر ذرہ برابر رحم نہیں آیا۔بستی سے دورویرانے میں جہاں پہلے ہی سے ایک گڑھا کھدوا رکھا تھا اسکے کنارہ پہنچتے ہی میں نے بے دردی وبے رحمی سے دھکا دیکر گڑھے میں گرادیا ،وہ دردوسوز سے’’ ابو۔ابو‘‘کہکرپکارتی رہی میں نے اسکی ایک نہ سنی، رنج وغم میں ڈوبی اسکی آواز کی کوئی پر واہ نہ کی ،اس معصوم ہستی کی جان لیتے ہوئے میرے پتھردل میں کوئی ہلچل مچی نہ کسی رنج وغم کا قلب میں گزرہوا،اسکی غمناک آوازیں صحراء میں گونجتی رہیں ،اسکی آہ وفغاں اوراسکا نالہ وشیون شایدپتھرکو پگھلاکر پانی بنا دیتا لیکن میں سخت جان اس پر پتھربرساتا رہا یہاں تک کہ وہ تڑپتے تڑپتے دنیا سے رخصت ہوگئی،پھر میں نے مٹی سے اس گڑھے کو بھر دیا اورالٹے پائوں واپس لوٹ گیا‘‘یہ سن کر آپ َﷺ اس قدر اشکبارہوئے کہ آنسوؤں سے ریش مبارک تر ہوگئی۔الغرض آپ ﷺنے انسانیت کو شرمسار کرنے والے ایسے دل شکن حالات میں حق کا پیغام سنایا ’’یاد کرو جب (بروز حشر)زندہ درگورکی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم کی پاداش میں وہ قتل کی گئی ؟(التکویر:۹۸) آپ ﷺ کے پاکیزہ تعلیمات اورمسلسل جدوجہدکے نتیجہ میں اس ظالمانہ رسم بدکا سرزمین عرب سے خاتمہ ہوا۔

دورجاہلیت کے روح فرسا مناظراس ترقی یافتہ دورجاہلیت ِجدیدہ میں پھر سے عود کر آئے ہیں ،اس وقت ظلم کی چکی میں معصوم بچے پس رہے ہیں،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کے اس ظالمانہ سماج نے دورجاہلیت کو پیچھے چھوڑدیاہے ،روہنگیامسلمان جس کرب واذیت سے گزارے جارہے ہیں وہ ایک نا گفتہ بہ شدید رنج وغم میں ڈوبی داستان الم ہے۔

لیکن درندہ صفت ظالموں نے معصوم بچوں کے ساتھ جس بے رحمی ودرندگی کا مظاہر ہ کیاہے شایدایسی درندگی کے مظاہر چشم فلک نے کبھی نہ دیکھے ہوں ،موت کی آغوش میں پہنچنے والے بچوں کی تعداد انگنت ہے ،عالمی ادارے کے بموجب برمامیں فوجی آپریشن اورتشددظلم ڈھاتے ہوئے درندگی کا لبادہ اوڑھے ہوئے انسان نما بدھسٹوں نے بڑوں سے زیادہ بچوں کو جو کلی سے پھول بن کر چمن زارحیات کورونق فزابنا نے والے تھے بے دردی سے روندھ دیا ہے،اورکئی معصوم بچوں کی نعشیں بہتی ہوئی دریاء ناف کے کنارہ پہنچی ہیں ۔لیکن جو معصوم بچے درندہ صفت بدھسٹ بھیڑیوں کے چنگل میں پھنسنے سے محفوظ رہ گئے ہیں ایسے تخمینی دس ہزار روہنگیامعصوم جانیں اپنے والدین سے بچھڑگئی ہیں۔بنگلہ دیش کے کیمپ میں ساٹھ فیصد تعدادبچوں کی ہے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے تحفظ اطفال نے یہ انکشاف کیا ہے۔اس نے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ کہیں یہ معصوم بچے’’ بردہ فروش مافیا‘‘کے ہاتھ نہ لگ جائیں کہ وہ اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل کیلئے ان کو استعمال کربیٹھے،مذکورہ عالمی ادارہ نے بنگلہ دیشی حکام کے تعاون سے جو اعدادشمار جمع کئے ہیں اسکے مطابق اکتالیس پناہ گزیں کیمپوں میں ایک سال کی عمرکے تقریبا بارہ ہزار،دوسال سے پانچ سال تک کی عمرکے بچے تخمینی سترہزار،اورپانچ سال سے پندرہ سال تک کی عمرکی بچوں کی امکانی تعدادایک لاکھ تیس ہزار ہوسکتی ہے۔یہ بچے اس وقت ان کیمپوں میں انتہائی مایوس کن اورافسردہ زندگی گزاررہے ہیں،یہ یتیم ویسیر بچے نفسیاتی امراض کا شکارہوسکتے ہیں۔دنیا بھر میں معصوم بچے درندگی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں،ذرائع ابلاغ کے مطابق طبی جریدہ لانسیٹ نے’’ گلوبل ڈیزیزبرڈن اسٹڈی ‘‘کے عنوان سے شائع شدہ رپورٹ میں حیرتناک انکشاف کیا ہے،پوری دنیا میں پانچ سال سے کم عمرکی بچوں کی شرح اموات میں ہندوستان سب سے آگے ہے، ۲۰۱۶ء میں پانچ سال سے کم عمرکے نولاکھ بچے ہندوستا ن میں فوت ہوچکے ہیں اوریہ تعداددنیا بھر کے اورممالک کے مقابل بہت زیادہ ہے،ہندوستان کے بعدنائجیر یا کا پھرکانگوکا نمبرآتاہے،چند دنوں پہلے ماہ اگست گورکھپورکے ’’بی آرڈی ‘‘اسپتال میں فوت ہونے والے بچوں کی تعداد۲۹۶بتائی گئی ہے ،میڈیکل کالج میں جنوری سے اب تک ۱۲۵۶بچوں کے فوت ہونے کی اطلاع ہے،گزشتہ ایک ہفتہ میں ساٹھ سے زائد بچوں کی موت واقع ہوگئی ہے ان میں سے زیادہ تر نوزائدہ بچے تھے،مہار ا شٹراکے ناسک سیول اسپتال میں بچوں کے ای سی یو میں پچھلے مہینہ ۵۵نوزائدہ بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔اسی طرح اترپردیش ہی کے ایک ضلع فرخ آبادکے اسپتال میں ایک مہینہ کے دوران آکسیجن کی کمی کی وجہ ۴۹ نوزائدہ بچوں کی وفات کی خبریں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔جھارکھنڈ کے ضلع جمشید پورکے ایم جی ایم اسپتال میں پچھلے تیس دنوں میں ۶۴بچوں کی اوردومہینوں میں سوسے زائد بچوں کی موت کی خبریں آئی ہیں ،سرکاری اسپتالوں کے ناقص انتظامات مرکزی وریاستی حکومتوں کی جانب سے عدم توجہی کی وجہ غریب شہریوں کو اورمعصوم بچوں کو زندگی اورموت کی کشمکش سے گزرتے ہوئے موت کو گلے لگانا پڑرہاہے۔معصوم بچوں کے ساتھ دانستہ غفلت و بے رحمی کے ایسے حالات آزادی سے پہلے اورآزادی کے بعد بھی شاید نہیں دیکھے گئے ہوں گے جو اب دیکھے جارہے ہیں،بچوں کے اغواء،تشدد اورجنسی زیادتی کے بعد ان کے بہیمانہ قتل کے واقعات کی بھی اس وقت کثرت ہے،حال ہی میں گروگرام کے ریان پبلک اسکول میں ایک معصوم بچے پردیومن کے قتل کی واردات پیش آئی ،اس سے پہلے بھی کئی ایک معصوم بچے اوربچیاں جابروظالم درندہ صفت انسان نما بھیڑیوں کے ظلم وتشددکا شکارہوچکے ہیں۔
پھول تو دودن بہار جاں فزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
سماج کے ذمہ داروں اورحکومت کے کارندوں کو اس کا سخت نوٹ لینا چاہیئے اوراس غیر انسانی بیہودگی کا سدباب کیا جانا چاہیئے۔
معصوم بچوں کی معصومانہ بات چیت ہر ایک کو بھاتی ہے ،ان کے کھیل کود اوران کی معصوم فطرت ادائیں دلوں کو لبھاتی ہیں ،گھر کا چمن اس وقت تک پر بہار نہیں لگتا جب تک کہ اس کے آنگن میں قلب وروح کو مسرت بخشنے والے اورآنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان کرنے والے خوش رنگ پھول (معصوم ننھے منھے بچے) نہ ہوں۔

معصوم بچوں پر ظلم وزیادتی اوران کے ساتھ بہیمانہ برتاؤ ، درندگی وسفاکی کے ساتھ معصوم جانوں سے کھلواڑجیسے غیر مہذب وغیر انسانی ماحول میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بچوں سے چاہت اوران کے ساتھ شفقت ومحبت کا برتاؤ کا نورانی گوشہ انسانوں کے سامنے کھولا جانا چاہیئے تاکہ وہ اس سے روشنی حاصل کرکے درندگی وبہیمیت کا جامہ اتار پھینکیںاور انسانیت کا جامہ پھر سے زیب تن کر لیں ۔آپ ﷺ بچوں کا بڑا خیال فرماتے چونکہ بچے بڑوں کی شفقت ومحبت اوران کے ہمدردانہ برتاؤکے سخت محتاج ہوتے ہیں ،ان کی عمدہ نشونماء میں اسکا نمایاں رول ہواکرتا ہے ،آپ ﷺ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں، پیارے نواسے آپﷺ کے مبارک دوش پر سوار ہوجاتے ہیں ،آپ ﷺ ان کا بھر لحاظ فرماتے ہوئے سجدہ طویل فرمادیتے ہیں (مسنداحمد:۱۶۰۳۳)ایک موقع پر آپ ﷺ اپنے چیتے نواسے حسن رضی اللہ عنہ کے بوسے لے رہے تھے ،اس موقع پر ایک صحابی اقرع بن حابس وہاں موجود تھے وہ عرض کرنے لگے میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے کسی کا بوسہ نہیں لیا ،تو آ پﷺ نے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا(بخاری :۵۵۹۷)ایک روایت میں ہے ایسا ہی ایک موقع پر جبکہ آپ ﷺ اپنے نواسے حسن کو پیارکررہے تھے دیکھنے والے نے یہ منظر دیکھ کر یہی کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ سبحانہ نے تیرے قلب سے رحمت ومہربانی کی کیفت سلب کرلی ہو تو میں کیا کرسکتاہوں(بخاری:۵۹۹۸)بچوں سے پیارومحبت ،شفقت ومہربانی کے برتاؤ میں اپنوں اورغیر وں کا کوئی فرق نہیں تھا،آپ ﷺ کا بلا لحاظ مذہب وملت سارے بچوں کے ساتھ یکساں سلوک تھا جو جذبات واحساسات اپنوں اوراپنے بچوں کیلئے تھے وہی غیروں اورغیر وں کے بچوں کے ساتھ تھے۔ایک یہودی کا لڑکا آپ ﷺ کی خدمت میں آیا کرتا تھا ایک دفعہ وہ بیمار ہوگیا تو آپ ﷺ بنفس نفیس اسکی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اوراسکے سرہانے تشریف فرماہوئے،پھر آپ ﷺ نے اس کو اسلام کی دعوت دی ،بچے کی نگاہیں اپنے والدکی طرف اٹھ گئیں والدنے کہا ابوالقاسم (ﷺ)کی بات مان لو،پھر وہ بچہ اسلام کے دامن رحمت میں آگیا (بخاری:۱۳۵۶)آپ ﷺ کا یہ ارشاد پاک ساری انسانیت کیلئے انسانیت کا ایک عظیم پیغام ہے ’’وہ ہم میں سے نہیں جو اپنے بڑے بزرگوں کا احترام نہ کرے اوربچوں سے شفقت ومحبت سے پیش نہ آئے‘‘ (سنن الترمذی:۱۹۲۱)بعض روایات میں ’’لم یؤقر کبیرنا ‘‘کے بجائے ’’ولم یعرف حق کبیرنافلیس منا‘‘(ابوداؤد:۴۹۴۳)مروی ہے۔

TOPPOPULARRECENT