Thursday , December 13 2018

حسنی مبارک ‘ سینکڑوں احتجاجیوں کے قتل کے الزام میں بری

قاہرہ 29 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کو ایک عدالت نے قتل کے الزامات سے بری کردیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حسنی مبارک 2011 کے انقلاب کے دوران سینکڑوں غیر مسلح احتجاجیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس احتجاج کے ذریعہ مصر میں حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا ۔ ایک ڈرامائی انداز کے فیصلے میںجج مح

قاہرہ 29 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کو ایک عدالت نے قتل کے الزامات سے بری کردیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حسنی مبارک 2011 کے انقلاب کے دوران سینکڑوں غیر مسلح احتجاجیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس احتجاج کے ذریعہ مصر میں حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا ۔ ایک ڈرامائی انداز کے فیصلے میںجج محمود کامل الرشیدی نے حسنی مبارک کو اسرائیل کو گیس ایکسپورٹ کرنے کے معاملہ میں کرپشن کے الزامات سے بھی بری کردیا ہے ۔ جج نے حسنی مبارک کے خلاف قتل کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ ان ( حسنی مبارک ) کے خلاف تعزیرات کے تحت مقدمہ چلاتے ہوئے جرائم ثابت کرنے کی کوشش کی جائے ۔

حسنی مبارک کو جون 2012 میں ان الزامات پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ آج کے فیصلے کے ذریعہ سابقہ فیصلے کو بدل دیا گیا ہے اور اب انہیں کوئی سزا نہیں بھگتنی پڑیگی ۔ کہا گیا ہے کہ حسنی مبارک نے 2011 کی انقلابی تحریک کے دوران جملہ 846 احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا جو ہلاک کردئے گئے تھے ۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے اسرائیل کو گیس سربراہ کرنے کے معاہدہ میں رشوت حاصل کی ہے ۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مارکٹ سے کم قیمت پر گیس اسرائیل کو فراہم کی تھی ۔ جب جج نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حسنی مبارک کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا اعلان کیا تو کمرہ عدالت میں اس کا زبردست خیر مقدم کیا گیا ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میںسات سابقہ سکیوریٹی کمانڈرس بشمول حسنی مبارک کے سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی کو بھی الزامات سے بری کردیا اور کہا کہ وہ مخالف حکومت احتجاجیوں کے قتل میں بے گناہ ہیں۔ 86 سالہ حسنی مبارک کو آج روایتی جیل کے لباس میں وہیل چئیر پر کمرہ عدالت میں لایا گیا تھا ۔ حسنی مبارک کے دو فرزندان کو بھی کرپشن کے تمام الزامات سے بری کردیا گیا ہے ۔ جج الرشیدی نے کہا کہ حسنی مبارک کے خلاف الزامات پر قطعی فیصلہ جملہ 1,430 صفحات پر مشتمل ہے جسے جاری کردیا گیا ہے ۔ حسنی مبارک کو 2012 میں مذکورہ الزامات کی پاداش میں سزائے عمر قید سنائی گئی تھی تاہم اس فیصلے کے خلاف جنوری 2013 میں کامیاب انداز میںاپیل کی گئی تھی کیونکہ سابقہ فیصلے میں بھی پریسائیڈنگ جج کا یہ تاثر تھا کہ حسنی مبارک کے خلاف استغاثہ مناسب ثبوت و شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے ۔

ان کے مقدمہ کیدوبارہ سماعت کا اپریل 2013 میں آغاز ہوا تھا ۔ حالانکہ حسنی مبارک کو کسی بھی الزام میں سزا نہیں سنائی گئی ہے لیکن انہیں جیل سے رہا نہیں کیا جائیگا کیونکہ مئی کے مہینے میں قاہرہ کی ایک عدالت نے غبن کے الزام میں انہیں تین سال قید کی سزا سنائی تھی ۔ حسنی مبارک قاہرہ کے جنوبی مضافات میں ایک فوجی دواخانہ میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔ حسنی مبارک کے دو فرزندان علا اور جمال فی الحال سرکاری فنڈز کے غبن کے الزام میں چار سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی کو بھی مئی 2011 میں مالیاتی بدعنوانیوں کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی جس پر انہوں نے اپیل کی ۔ ان کی سزا پر روک لگاتے ہوئے مقدمہ کی دوبارہ سماعت کی جا رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT