Saturday , April 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حسین ساگر جھیل میں کشتی رانی کے دوران جیکٹس کی عدم سربراہی

حسین ساگر جھیل میں کشتی رانی کے دوران جیکٹس کی عدم سربراہی

انسداد حادثات کیلئے احتیاطی اقدامات نظرانداز، وجئے واڑہ میں کشتی غرقابی کے بعد سیاحوں میں تشویش

حیدرآباد 13 نومبر (سیاست نیوز) وجئے واڑہ کی کرشنا ندی میں کشتی غرقاب ہونے سے 16 افراد ہلاک ہونے کے بعد شہر حیدرآباد سیاحتی مقام حسین ساگر میں بھی کشتی کے ذریعہ سیاحت کیلئے پہونچتے ہیں اور حسین ساگر پر موجود کشتیوں میں ضروری ساز و سامان اور واٹر جیکٹس دستیاب نہ رہنے پر بھی کئی طرح کے سوالات جنم لیتے ہیں اور حسین ساگر میں خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آجائے تو کیا کیا جائے گا؟ عہدیداران کی جانب سے حسین ساگر میں چلائی جانے والی کشتی رانی کیلئے اُصول و ضوابط اور حفاظتی اقدامات سے متعلق لاپرواہی برتی جارہی ہے۔ اسپیڈ بوٹس، ڈیلکس بوڈس کے علاوہ کشتی میں سوار ہونے والے سیاحوں کو لائف جاکٹس ضرورت کے مطابق فراہم نہیں کئے جارہے ہیں۔ سیاح بڑی خوشی کے ساتھ حسین ساگر میں کشتی رانی کیلئے دورہ کرتے ہیں مگر درحقیقت یہ کشتی رانی خطرات سے پُر ہے۔ اس مناسبت سے کشتی چلانے والے اور سیاحوں کو قاعدہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ فی الحال حسین ساگر میں چلائی جانے والی کشتی خیرالنساء میں 100 افراد اور بھاکیرتھی کشتی میں 150 افراد سوار ہونے کی گنجائش ہے۔ اتنی کثیر تعداد میں سوار ہونے والے افراد کیلئے ضرورت کے مطابق لائف جیکٹس موجود نہیں ہیں۔ بڑی کشتیوں میں تقریباً 30 لائف جاکٹس اور 10 ، 15 لائف رنگس ہیں۔ ماضی میں کشتیاں تیز رفتار سوار ہوکر پارٹیاںبھی ہوتی ہیں اور یہاں رات کے اوقات میں بھی کشتی رانی کی جارہی ہے۔ کشتی میں سوار تمام افراد کو لائف جاکٹس فراہم کرتے ہوئے پہننے پر مجبور کرنا کشتی راں افراد کی ذمہ داری ہے۔ اس پر تو عمل آوری نہیں ہورہی ہے۔ کشتی میں سوار ہونے والوں کی ذمہ داری ہے کہ کشتی راں افراد سے ہر حال میں لائف جاکٹس حاصل کرتے ہوئے اس کا استعمال کریں۔ ڈیلکس بوٹ میں 8 افراد سوار ہونے کی گنجائش ہے اور اس پر سوار ہونے والوں کو باقاعدہ لائف جاکٹس فراہم کئے جاتے ہیں جبکہ دیگر کشتیوں میں 50 افراد تک سوار ہونے کی گنجائش ہے مگر ایسی ہر ایک کشتی میں صرف 10 لائف جاکٹس ہی موجود ہیں۔ لمبنی پراجکٹ منیجر راجو لنگم نے کہاکہ تمام حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں اور کشتیوں میں متعینہ تعداد سے بڑھ کر افراد کو سوار نہیں کیا جارہا ہے اور چار افراد پر مشتمل ٹیم باقاعدہ نگرانی کرتی ہے اور کشتیاں تیز رفتار سے نہیں چلایا جاتا ہے تاحال ایسا کوئی حادثہ وقوع پذیر نہیں ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT