Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / حسین ساگر جھیل کے قریب تعمیری منصوبہ سے دستبرداری کا مطالبہ

حسین ساگر جھیل کے قریب تعمیری منصوبہ سے دستبرداری کا مطالبہ

صدر فورم فابیٹر حیدرآباد ایم ویداکمار کا بیان

صدر فورم فابیٹر حیدرآباد ایم ویداکمار کا بیان
حیدرآباد۔13نومبر(سیاست نیوز) حسین ساگر کے اطراف واکناف میںتعمیری سرگرمیوں کے منصوبے کو منسوخ کرنے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کرتے ہوئے فورم فار بیٹر حیدرآباد کے صدر مسٹر ایم ویدا کمار نے کہاکہ پچھلے تیس سالوں میںآندھرائی حکمرانوں اور سرمایہ داروں نے دنیامیںمنفرد پہنچان رکھنے والے عظیم وتاریخی جھیل حسین ساگر کو آلودہ بنانے میںکوئی کسر باقی نہیںرکھی ہے۔ اپنے ایک صحافتی بیان میںمسٹر ویدا کمار نے حسین ساگر کے متعلق وضاحت پیش کرتے ہوئے کہاکہ 1975سے قبل تک حسین ساگر کا پانی پینے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور حمایت نگر اور اسکے اطراف و اکناف کے علاقوں میںحسین ساگر سے پینے کے پانی کی سربراہی انجام دی جاتی تھی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آصفجاہی دور حکومت میں تعمیر کی گئی اس عظیم جھیل کو آندھرائی حکمرانوں اور سرمایہ داروں نے انڈسٹری آلودگی کے ذریعہ شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے تلگودیشم دور حکومت میں حسین ساگر کے عظمت رفتہ کے ساتھ کئے گئے کھلواڑ کا بھی اس موقع پر حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حسین ساگر کے اطراف واکناف میں اٹھارہ سے زیادہ تعمیراتی پراجکٹس کو تلگودیشم حکومت نے منظوری دی تھی تاکہ تلنگانہ کی تاریخی جھیل کی شناخت کو ختم کیا جاسکے۔انہوں نے مزیدکہاکہ فورم فار بیٹر حیدرآباد نے ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر بارہ سے زیادہ پراجکٹس کو منسوخ کروانے کا کام کیا تھا تاکہ حسین ساگر جیسی عظیم جھیل کو تباہی سے بچایا جاسکے ۔ مسٹر ویدا کمار نے کہاکہ حسین ساگر کے اطراف واکناف میںبلند عمارتوں کی تعمیردنیا کی منفرد انداز میںتعمیر کردہ جھیل کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ عمارتوں کی تعمیر اور ٹریفک میںاضافہ کے سبب حسین ساگر جھیل کی شناخت کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہذاارباب مجاز پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تعمیراتی منصوبے سے ہونے والے نقصانات سے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر رائو کو واقف کروائیں تاکہ وہ اس منصوبہ کو کسی اور مقام پر تبدیل کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT