Monday , July 16 2018
Home / شہر کی خبریں / حسین ساگر کی سیاحت ، صحت کے لیے شدید خطرہ

حسین ساگر کی سیاحت ، صحت کے لیے شدید خطرہ

بدبو دار پانی میں کشتی رانی کرنے والے دواخانہ جانے مجبور ، عہدیداروں کی بے توجہی لمحہ فکر
حیدرآباد ۔ 21 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حسین ساگر شہریان حیدرآباد و سکندرآباد کے لیے ایک سکون فراہم کرنے والا مقام ہے ۔ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے سیاحت کا بہترین جگہ ہے ، سیاح حسین ساگر میں کشتی رانی کے ذریعہ لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر تعطیلات میں عوام زیادہ تعداد میں حسین ساگر آتے ہیں ۔ یہاں آنے والوں کو تفریح اور سکون حاصل ہو یا نہ ہو مگر سیاح اور شہریان یہاں پانی میں موجود بدبو کی وجہ سے دواخانوں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ کچھ دیر خوشی اور سکون و اطمینان حاصل کرنے کے مقصد سے آنے والوں کو حسین ساگر دواخانوں کو روانہ کررہا ہے ۔ گندے پانی کی نالیوں کا پانی حسین ساگر میں شامل ہونے کی وجہ سے حسین ساگر کے پانی میں بدبو پیدا ہورہی ہے ۔ موسم سرما ہونے کی وجہ سے پانی میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید بدبو آرہی ہے ۔ پی سی بی عہدیداران بھی اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ حسین ساگر میں کشتی رانی کے لیے سیاح بڑے شوق سے آتے ہیں اور سیاح وہاں آنے والی بدبو محسوس کر کے بھی کشتی رانی کے شوق میں آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ کشتیاں جب تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں تو پانی میں اُچھال پیدا ہوتا ہے اور کناروں سے جا ٹکراتا ہے جس کی وجہ سے بدبو میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ ایک سو روپئے کا ٹکٹ خرید کر سیاح ہزاروں روپئے خرچ کرنے والی بیماریوں کا شکار بن رہے ہیں ۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ بدبو کی وجہ سے سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں ۔ علاوہ ازیں سردرد ، سرچکرانا اور بدبو کی وجہ سے چھوٹے بچوں پر بیماریاں بڑی تیزی کے ساتھ حملہ کرتی ہیں ۔ ڈاکٹرس کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسم سرما میں مختلف بیماریاں بڑی تیزی کے ساتھ لاحق ہوتی ہیں اگر احتیاط نہ برتا جائے تو حالات خطرناک بھی ہوسکتے ہیں ۔ سیاح امراض میں مبتلا ہونے پر بھی عہدیداران کے سروں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے ۔ بس عہدیداران کشتی رانی کے ذریعہ ہونے والی آمدنی پر نظر رکھتے ہیں ۔ سیاحوں کی صحت کے تحفظ کو عہدیداران اہمیت ہی نہیں دے رہے ہیں ۔ حسین ساگر میں کشتی رانی سے متعلق کیے جانے والے اقدامات سے انہیں کوئی سروکار ہی نہیں ہے روزانہ یہاں 1500 سے زائد افراد آتے ہیں ۔ جن میں 500 سے زائد بچے ہوتے ہیں اور تعطیلات میں یہ تعداد دوگنی ہوجاتی ہے ۔ تحفظ تو کجا کم از کم سیاحوں کی صحت کیلئے ڈاکٹرس کا تقرر نہیں کررہے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حسین ساگر آنے والے سیاحوں کو لازمی ماسک استعمال کرنے پر مجبور کرنے حالات پیدا ہورہے ہیں اور بروقت طبی امداد کیلئے ڈاکٹرس کا تقرر کرنا چاہئے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدبو سے سیاحوں کی طبیعت بگڑ جائے یا کوئی حادثہ پیش آجائے تو فوری طبی امداد کے لیے یہاں ڈاکٹرس کا تقرر کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT