Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / حشر تک جاری رہے فیضانِ صبر

حشر تک جاری رہے فیضانِ صبر

خیر النساء امرین

ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے ایمان والو! مدد حاصل کرو صبر کے ساتھ اور نماز کے ساتھ، بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ اللہ تعالی نے مندرجہ بالا آیت کے بعد فرمایا ’’ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے ڈر، بھوک اور نقصان مالوں اور جانوں اور میووں سے اور خوش خبری سنادیجئے صبر کرنے والوں کو کہ جب پہنچے ان کو کوئی مصیبت تو کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے عنایتیں ہیںاپنے رب کی اور مہربانی ہے اور وہی ہے سیدھی راہ پر‘‘۔ یعنی جن لوگوں نے ایسے حالات میں بھی صبر کا مظاہرہ کیا، مصائب پر صبر کیا، کفران نعمت نہ کیا، بلکہ ان مصائب میں ذکر و شکر سے کام لیا تو اے پیغمبر! ان لوگوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔
اس معاملے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرے گا، اللہ تعالی اس کو صبر دے گا اور صبر سے بہتر اور بہت سی بھلائیوں کو سمیٹنے والی بخشش اور کوئی نہیں‘‘۔
(بخاری و مسلم)
جو شخص آزمائش میں پڑنے پر صبر کرتا ہے تو اس وقت تک صبر نہیں کرسکتا، جب تک کہ خدا پر اس کو اعتماد اور یقین نہ ہو۔ پھر وہ شخص ہرگز صبر نہیں کرسکتا، جس کے اندر شکر کی صفت نہ پائی جاتی ہو۔ اس طرح غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ صبر کی صفت اپنے ساتھ کتنی خوبیاں سمیٹتی ہے۔
صبر گناہوں کا کفار ہو جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مؤمن مردوں اور عورتوں پر وقتاً فوقتاً آزمائشیں آتی رہتی ہیں، کبھی خود اس پر مصیبت آتی ہے، کبھی اس کا لڑکا مر جاتا ہے، کبھی اس کا مال تباہ ہو جاتا ہے اور وہ ان تمام مصائب میں صبر اختیار کرتا ہے اور اس طرح اس کے قلب کی صفائی ہوتی رہتی ہے اور برائیوں سے دور ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب اللہ سے ملتا ہے تو اس حال میں ملتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوتا‘‘۔ (ترمذی)
دوسری حدیث شریف میں فرمایا کہ ’’آزمائش جتنی سخت ہوگی، اتنا ہی بڑا انعام ملے گا (بشرطیکہ آدمی مصیبت سے گھبراکر راہ حق سے بھاگ نہ کھڑا ہو) اور اللہ تعالی جب کسی گروہ سے محبت کرتا ہے تو ان کو مزید نکھارنے کے لئے اور صاف کرنے کے لئے آزمائشوں میں ڈالتا ہے۔ پس جو لوگ خدا کے فیصلے پر راضی رہیں اور صبر کریں تو اللہ تعالی ان سے خوش ہوتا ہے اور جو لوگ  آزمائش میں اللہ سے ناراض ہوں تو اللہ تعالی بھی ان سے ناراض ہو جاتا ہے‘‘۔ (ترمذی)
بندگان خدا میں سے جس کو اللہ تعالی سے جس قدر تقرب حاصل ہوتا ہے، اسی نسبت سے اس پر مصیبتیں اور بلائیں نازل ہوتی ہیں اور جب وہ صبر و شکر سے کام لیتا ہے تو وہی مصیبتیں اس کے لئے تقرب کے درجات کی بلندی کا باعث بن جاتی ہیں۔ لہذا انسان کو چاہئے کہ کسی حالت میں بھی خدائے تعالی کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔
اگر کسی مخلوق کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے یا کوئی برا بھلا کہے تو اس وقت صبر کرے، بدلہ نہ لے اور خاموش ہو جائے۔ مصیبت، بیماری اور مال کے نقصان یا کسی عزیز کے انتقال پر زبان سے خلاف شرع بات نہ کہے۔ ان سب مواقع پر ثواب کو یاد کرے اور سمجھے کہ یہ سب باتیں میرے فائدہ کے واسطے ہیں اور یہ بھی سوچے کہ بے صبری کے اظہار سے تقدیر نہیں بدلتی۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں پتھریلی زمین پر گزرا۔ حضرت عمار اور ان کے والد اور ان کی ماں کو دھوپ میں تپایا جا رہا تھا اور تکلیف دی جا رہی تھی، تاکہ یہ لوگ اسلام سے پھر جائیں۔ حضرت ابو عمار نے عرض کیا ’’یارسول اللہ! کیا زمانہ ایسا ہی ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا ’’اے آل یاسر! صبر کرو‘‘۔ اس کے بعد آپﷺ نے دعاء دی کہ ’’اے اللہ! خاندان یاسر کی مغفرت فرما‘‘ اور ان لوگوں کی مغفرت کردی گئی۔
حقیقت میں صبر اللہ تعالی کا ایک عطیہ ہے، جو اپنے مؤمن بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور فرمایا ’’تمہارے اس مرض سے تم کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب تم میرے بعد زندہ رہوگے اور نابینا ہو جاؤ گے؟‘‘۔ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا ’’اس وقت میں صبر اور ثواب کی نیت کروں گا‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا ’’تو جنت میں بلاحساب داخل ہو جاؤ گے‘‘۔ چنانچہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد نابینا ہو گئے۔ اسی طرح کا عمل اہل بیتِ اطہار اور صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی کرکے دکھایا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر و استقامت کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT