Monday , November 20 2017
Home / مضامین / حصولِ تلنگانہ کے بعد شہری مظلوم بھی اور دُکھی بھی …

حصولِ تلنگانہ کے بعد شہری مظلوم بھی اور دُکھی بھی …

 

تلنگانہ ؍ اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
کے چندر شیکھر راؤ کو فکر لاحق ہوگئی ہے کہ جی ایس ٹی کی وجہ سے ان کی حکومت کے فلیگ شپ پروگراموں پر منفی اثر پڑے گا۔2019 میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں اگر وہ ناکام ہوں تو سال 2019 کے انتخابات ان پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔ جی ایس ٹی کی اندھا دھند تائید کرنے کے بعد اب چیف منسٹر کو دہلی کی منت سماجت کرتے دیکھا جارہا ہے۔ تلنگانہ کے چیف سکریٹری ایس پی سنگھ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ریاست میں یکم جولائی سے نافذ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کی وجہ سے مختلف ایجنسیوں کی جانب سے شروع کردہ ترقیاتی کاموں پر کوئی اثر نہ پڑے خاصکر مشن بھگیرتا ، مشن کاکتیہ، آبپاشی پراجکٹس اور کمزور طبقات کے لئے ڈبل بیڈ رومس کے مکانات کی تعمیر پر جی ایس ٹی اثر انداز نہ ہونے پائے۔ چیف منسٹر نے وزیر اعظم مودی کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنی نئی ریاست تلنگانہ کے لئے مالیاتی بوجھ لاد لیا ہے۔ انہوں نے عوام کی بہبود کیلئے اپنی پسندیدہ اسکیمات پر بھاری رقومات خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا مگر اب جی ایس ٹی نے ان کے پیروں میں زنجیر ڈال دی ہے۔ ریاست پر جی ایس ٹی کی وجہ سے اضافہ سالانہ ٹیکس191000 کروڑ روپئے لاگو ہوگا۔ صدارتی انتخاب اور نائب صدر جمہوریہ کے لئے ہوئی رائے دہی میں این ڈی اے سے نامزد امیدواروں کی حمایت کرنے کے بعد کے سی آر کو یہ خیال آیا ہے کہ انتخابی امکانات موہوم ہوتے جارہے ہیں۔ اس لئے عوام کے غم و غصہ کو کم کرنے کیلئے وہ 15 اگسٹ سے اضلاع کا دورہ کررہے ہیں۔ اس دورہ کے ذریعہ وہ اپنی حکومت کے کاموں سے عوام کو واقف کروائیں گے۔ انہوں نے تلنگانہ کے حصول سے قبل نئی ریاست کے لئے کئی خواب دیکھے تھے اور عوام کو بھی خواب دیکھنے کیلئے مجبور کیا تھا، اب جبکہ خواب پورے نہیں ہورہے ہیں تو اس کی صفائی میں اضلاع کے دورے کرتے ہوئے پھر سے عوام کو خوابوں کی دنیا میں لے جانے کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔چیف منسٹرکو عوام کی خدمت کے کاموں میں دلچسپی ضرور ہے مگر یہ کام کرنے سے وہ قاصر ہیں۔ نیکی کے کاموں میں ان کا دل لگتا ہے اس لئے انہوں نے تلنگانہ کے عوام کو حصولِ تلنگانہ کے فوائد سے آگاہ کیا تھا۔ آندھرائی تسلط میں تلنگانہ کا علاقہ بُری طرح پسماندہ ہوگیا تھا۔

کے سی آر نے تلنگانہ بننے سے قبل عوام کے سامنے عہد کیا تھا کہ وہ ریاست کے عوام کی درست رہنمائی کریں گے۔ یعنی گرتی ہوئی دیوار کے سائے تلے بیٹھنے سے منع کریں گے۔ مچھلیاں پکڑ کر پیٹ پالنے والوں کو مگر مچھوں سے بیئر ڈالنے سے روکیں گے۔ عوام کو اُن راستوں پر سفر کرنے سے روکیں گے جن راستوں پر گٹر کے ڈھکن کئی برس سے غائب ہیں۔ وہ ان جگہوں کی نشاندہی کریں گے جن راستوں پر آندھرائی قائدین نے انھیں لوٹا ہے اور لوٹنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی حکومت میں سرکاری محکمے رشوت کے بغیر کام کریں۔ انہوں نے دفاتر کی ایسی فہرست تیار کی تھی کہ جب بھی عوام کو سرکاری دفاتر سے کام پڑے تو ان دفاتر کا رُخ کریں تو نوٹ جیب میں رکھ کر نہ جائیں۔ ان دفاتر میں چپراسی سے لیکر اعلیٰ عہدیدار تک عوام کی کھال کھینچ لیتے ہیں۔ بہر حال کے سی آر نے تلنگانہ کو دودھ میں دھلے، پاک صاف سیاسی دور کی آمد آمد کی خوشخبری دی تھی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہی گھسی پٹی حکومت چل رہی ہے۔تلنگانہ کے سیاستداانوں نے نئے صاف ستھرے سیاسی سفر کا آغاز تو کیا تھا مگر تلنگانہ میں صاف ستھری سیاست چلانے کیلئے ناکام رہے۔ بڑے بول کا انجام تو دیکھ لینے دیجئے ، آج کے دور کے سیاستدانوں کو تلنگانہ کے حصول سے جو اُمید تھی وہ ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی انگلی تھامے چیف منسٹر نے بہت دور چلنے کی سوچی تھی مگر راستے میں ہی انھیں محسوس ہوا کہ انہوں نے جس کی انگلی تھامی ہے وہ فرقہ پرستی کی کھائی میں ڈھکیل دے گی۔
تلنگانہ میں اس وقت عملاً اچھی حکمرانی کا نام نہیں ہے۔ اب جی ایس ٹی کے بعد وہ خود کو اور اپنی حکومت کو بچانے کی فکر میں مبتلاء ہیں، اس کی پیروی کے ٹی آر، ہریش راؤ اور کویتا بھی کررہے ہیں۔ ڈرگس مافیا کی لپیٹ میں اس ریاست کا مستقبل نشہ کی لعنت سے دوچار ہونے والا ہے تو پھر حکمرانی کو بہتر طریقہ سے کس طرح چلایا جائے گا۔ جعلی اشیاء، ملاوٹ اور غیرمعیاری سامان کی خرید و فروخت کے درمیان اگر تلنگانہ کو فیکٹریوں اور بڑی صنعتوں سے آراستہ کرنے کا خواب دکھانے والے چیف منسٹر کو ایک معمولی روزگار پالیسی بنانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ تلنگانہ تو عوام کا نصیب تھا مل گیا، مگر اس پر راج کرنے والی سیاسی شخصیتوں نے ثابت کردیا کہ اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں، ایک طرف مرکز کا ہروقت دم بھرا جارہا ہے تو دوسری طرف ریاست کے عوام سے اپنی فرقہ پرستی کا مکھوٹا چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔کے سی آر اپنی حکومت اور عوام کے درمیان ان 3 برسوں میں پیدا ہونے والی دوری کو ختم کرنے کیلئے دیہی عوام سے ملاقات کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ضلع میڑچل میں لکشمی پور کے عوام سے ملاقات کی، یہ ان کا ایک نیا قدم ہے۔ دیہاتوں کو ترقی دینے کی کوششوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمرانی میں عوام کی سرگرم حصہ داری کو فروغ دینے کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ شہروں کی حالت کیسی ہے، چیف منسٹر شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اب وہ دیہی عوام کے سامنے دیہی معیشت کو مستحکم بنانے، قابل قدر زرعی پیداوار کو بہتر بنانے اور ماحولیات کے تحفظ کے بشمول مواضعات کی ترقی کے متعدد اقدامات کا ذکر کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے دیہاتوں کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے بات چیت کی اور دیہی معیشت کے احیاء کیلئے اپنی حکومت کے منصوبوں کا اعلان کیا۔

چیف منسٹر کی دانست میں یہ سمجھا جارہا ہے کہ شہر کے لوگ آرام و سکون کی زندگی گذارنے دیہی علاقوںکا رُخ کررہے ہیں، شہروں سے گاؤں جارہے ہیں۔ یعنی حیدرآبادکے لوگ مواضعات میں ایک ایکر یا دو ایکر اراضی خرید کر وہاں اپنا فارم ہاوز بناکر ہفتہ کے آخری دو دن گذارتے ہیں۔ چیف منسٹر خود کی طرح عوام کو بھی فارم ہاوز کا مکین سمجھنے لگے ہیں۔ خود تو شہر سے نکل کر اپنے فارم ہاوز میں آرام کرتے ہیں اور حیدرآباد کے عوام کے بارے میں ان کی رائے بھی یہی ہے کہ شہری لوگ گاؤں کی آب و ہوا لینے کیلئے فارم ہاوز بنارہے ہیں۔ چیف منسٹر صرف ان امیر زادوں کی بات کررہے ہیں جن کے پاس فاضل دولت ہے جبکہ تلنگانہ یا شہر حیدرآباد میں رہنے والا ہر فرد دولتمند نہیں ہوتا۔ ہمارے عہد کے سب سے بڑے سیاسی تجزیہ کار اس سوال میں اُلجھے ہوئے ہیں کہ آیا چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی نفسیات آخر کیا ہے؟ یہ تجزیہ کار جاننا چاہتے ہیں کہ جو شخص اتنی بڑی اُڑتی اُڑتی باتیں کرسکتا ہے تو وہ عام زندگی کس طرح گذارتا ہوگا اور وہ کس طرح عوام کو گمراہ بنانے کیلئے منصوبے تیار کرتا ہوگا۔ لیکن عوام کو اس طرح کے فکری مغالطوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے سامنے کئی سیاستداں اُبھرے اور ختم ہوگئے ہیں۔ یہ سیاستدان فلاحی کاموں کے دعوے اس لئے کرتے ہیں تاکہ اس سے ظلم و استبداد اور استحصال کا شکار لوگوں میں بغاوت فرو ہوجاتی ہے اور انقلاب کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ اب تلنگانہ کے عوام کو یہ بات سمجھ آئی کہ دنیا میں بڑے بڑے انقلابات کے بعد بھی انسان مظلوم ہی ہے اور دکھی بھی ہے۔ اس طرح تحریک تلنگانہ کے انقلاب کے بعد ریاست کا ہر شہری مظلوم بھی ہے اور دُکھی بھی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT