Monday , September 24 2018
Home / سیاسیات / حصول اراضیات بل کو اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع کیا جائے : کانگریس

حصول اراضیات بل کو اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع کیا جائے : کانگریس

نئی دہلی 20 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) نئے آرڈیننس کی جگہ لینے تیار کئے گئے حصول اراضیات بل کی شدت سے مخالفت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کانگریس نے آج یہ واضح اشارہ دیا کہ اسے امید ہے کہ حکومت اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع کریگی ۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ جو کوئی نئے بلز پیش کئے جاتے ہیں ہم چاہتے ہیں ک

نئی دہلی 20 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) نئے آرڈیننس کی جگہ لینے تیار کئے گئے حصول اراضیات بل کی شدت سے مخالفت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کانگریس نے آج یہ واضح اشارہ دیا کہ اسے امید ہے کہ حکومت اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع کریگی ۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ جو کوئی نئے بلز پیش کئے جاتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ان بلوں کو پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع کیا جائے ۔ ماضی کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے سابق وزیر لیبر نے کہا کہ جب یو پی اے حکومت نے ایک سابقہ بل میں معمولی سے ترمیم کرتے ہوئے لفظ ’ ورکمین ‘ کی بجائے ورکرس کرنا چاہا تو بی جے پی نے اس بل کو اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع کروایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اب خود بی جے پی حکومت نیا بل پیش کر رہی ہے ۔ اس میں نئے دفعات ہیں کیا ایسے میںاس بل کو اسٹانڈنگ کمیٹی سے رجوع نہیں کیا جان اچاہئے اگر آپ واقعی جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طاقت کے بل پر کام کرنا چاہتی ہے اور یہ درست نہیں ہے ۔ ملکارجن کھرگے نے کانگریس ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حصول اراضیات بل کو ایک سال قبل ہی یو پی اے حکومت نے منظور کردیا تھا ۔ یہ بل عمل آوری کے مراحل میں تھا ۔ اس کے اثرات وغیرہ کا جائزہ لئے بغیر ‘ اس کے فوائد و نقصانات کا جائزہ لئے بغیر ایک نیا بل پیش کیا جارہا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ ایوان میں آپ کو اکثریت حاصل ہے اس لئے آپ اسے منظوری دلائیں گے ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ راجیہ سبھا میں اسے منظوری نہیں مل سکتی ہے تو پھر آپ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہو تو آپ کو دوسری مرتبہ آرڈیننس جاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس پارٹی 2013 میں منظور کئے گئے بل کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے ۔ اس پر کسی سوال کی گنجائش نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT