Friday , June 22 2018
Home / ہندوستان / حصول اراضی بل کی مخالفت دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں

حصول اراضی بل کی مخالفت دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں

کولکاتہ /10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج کہا کہ حصول اراضی قانون کاشت کار دوست اور ترقی دوست ہے۔ اس کی مخالفت عوام کے سامنے ایک دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اپوزیشن یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ مرکز کاشت کار دشمن ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پترا نے آج کہا کہ 2013ء میں اتفاق رائے کے بعد یہ قانون یو پی اے حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا ت

کولکاتہ /10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج کہا کہ حصول اراضی قانون کاشت کار دوست اور ترقی دوست ہے۔ اس کی مخالفت عوام کے سامنے ایک دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اپوزیشن یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ مرکز کاشت کار دشمن ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پترا نے آج کہا کہ 2013ء میں اتفاق رائے کے بعد یہ قانون یو پی اے حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا تھا، تاکہ اس وقت موجود برطانوی دور کے قانون کی جگہ لے سکے۔ مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے جب ایک اجلاس طلب کیا تو تمام وزرائے اعلی اور ان کے نمائندوں نے اتفاق رائے کیا کہ اتفاق رائے کا فقرہ یا تو حذف کردیا جانا چاہئے یا اس کی سختی کو 40 تا 50 فیصد کم کردینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ وزرائے اعلی نے گڈکری کو مکتوب بھی روانہ کئے، جن میں کہا گیا تھا کہ قانون کے سماجی اثرات کا تجزیہ ریاستوں کے ذمہ چھوڑدینا چاہئے، تاکہ وہ فیصلہ کرسکیں۔ پترا نے سوال کیا کہ بی جے پی حکومت کیا کرتی؟ وفاقیت کے درست اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اس حکومت نے کہا کہ جہاں تک اتفاق رائے اور اس کے سماجی اثرات کے تجزیہ کا سوال ہے، بااختیار اتھارٹی ریاستوں کو فیصلہ کرنا چاہئے۔

اگر ریاستیں کوئی مخصوص پراجکٹ منسوخ کرنا چاہتی ہوں تو 40 تا 50 فیصد اتفاق رائے سے ایسا کرسکتی ہیں، کیونکہ ریاستیں ہی بہترین منصف ہیں۔ ہم نے ریاستوں کو اختیار دیا ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پترا کا یہ تبصرہ حصول اراضی قانون کی شدید مخالفت کے پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ یہ قانون بی جے پی حکومت کی جانب سے نافذ کیا جانے والا ہے۔ پترا نے ایک پروگرام سے جس کا اہتمام انڈین چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) کی جانب سے کولکاتہ میں کیا گیا تھا، خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مخالفت صرف عوام کو دکھانے کے لئے ہے، تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ حصول اراضی قانون کاشت کار دشمن اور کارپوریٹ حامی ہے۔

ہ (اپوزیشن پارٹیاں جو قانون کی مخالف ہیں) بند کمرے کے اپنی مجلس قائمہ کے اجلاس میں اس قانون کے خلاف جدوجہد نہیں کرتیں۔ وہ صرف ایوان پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کرتی ہیں، جہاں کیمرے نصب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ قانون بی جے پی حکومت کی جانب سے لایا جا رہا ہے، کیونکہ یہ کاشت کار دوست اور ترقی دوست ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مرکزی حکومت کا ایک جامع قانون ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یو پی اے حکومت نے 2013ء میں حصول اراضی کا جو قانون نافذ کیا تھا، اس میں کئی جھول موجود ہیں۔ اسی تاثر کا اعادہ کانگریس زیر اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلی بھی کرچکے ہیں۔ 13 فقرے جنھیں چھوڑ دیا گیا تھا، اب قانون میں شامل کرلئے گئے ہیں۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی کے حصول اراضی قانون کے خلاف احتجاجی جلوس کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے پترا نے کہا کہ اگر بعض وزرائے اعلی حصول اراضی قانون کے خلاف احتجاجی جلوس نکالتے ہیں تو انھیں یہ حقیقت یاد دلائی جانی چاہئے کہ ریاستوں کو اس قانون پر عمل آوری کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ پھر احتجاج کا کیا مطلب ہے؟ جب کہ ریاست کو عمل آوری کرنے یا نہ کرنے کا پورا اختیار ہے۔

TOPPOPULARRECENT