Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / حصول اراضی قانون میں ترامیم کے خلاف طویل جدوجہد کا عزم

حصول اراضی قانون میں ترامیم کے خلاف طویل جدوجہد کا عزم

بھوبنیشور 6 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج کہا کہ حصول اراضی قانون میں ترامیم کے خلاف ایک اور طویل جدوجہد کی جائیگی جس میں بیجو جنتادل جیسی جماعتوں کو کسانوں اور قبائلی عوام کے تئیں اپنی سنجیدگی کا ثبوت دینا ہوگا ۔ سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی مہابھارت کے دری

بھوبنیشور 6 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج کہا کہ حصول اراضی قانون میں ترامیم کے خلاف ایک اور طویل جدوجہد کی جائیگی جس میں بیجو جنتادل جیسی جماعتوں کو کسانوں اور قبائلی عوام کے تئیں اپنی سنجیدگی کا ثبوت دینا ہوگا ۔ سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی مہابھارت کے دریودھن کی طرح رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے کسانوں کے مفادات کو فراموش کردیا ہے اور کارپوریٹس کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں جنہوں نے عام انتخابات کے دوران مودی کیلئے بھاری سرمایہ کاری کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جن سرمایہ کاروں نے مودی کیلئے پیسہ لگایا تھا اب وہ اراضی کی شکل میں معاوضہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بیجو جنتادل کے صدر و چیف منسٹر اوڈیشہ نوین پٹنائک سے حصول اراضی قانون میں ترامیم کی مخالفت کرنے کیاپیل کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ اب نوین پٹنائک کیلئے موقع ہے کہ وہ کسانوں اور قبائلی عوام کے تئیں اپنی سنجیدگی کا ثبوت دیں۔ اس بل کو لوک سبھا کی منظوری مل چکی ہے لیکن راجیہ سبھا میں منظوری ملنی باقی ہے جہاں این ڈی اے کو اکثریت حاصل نہیں ہے ۔ این ڈی اے کو یہاں بل کی منظوری کیلئے بیجو جنتادل جیسی جماعتوں کی تائید درکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوین پٹنائک کی بی جے ڈی اور نریندر مودی کی بی جے پی کے مابین خفیہ معاملت ہوئی ہے اسی لئے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں ایم ایم ڈی آر ایکٹ کی منظوری کے بعد نوین پٹنائک سے اظہار تشکر کیا تھا ۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ انہیں شک ہے کہ بی جے پی اور بی جے ڈی کے مابین کوئلہ بل ‘ کانکنی بل اور حصول اراضیات بل پر بھی خفیہ سودے بازی ہوچکی ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ 14 جماعتوں نے جن میں سماجوادی پارٹی ‘ بی ایس پی ‘ سی پی ایم ‘ سی پی آئی ‘ این سی پی ‘ جے ڈی یو ‘ ٹی ایم سی اور ڈی ایم کے بھی شامل ہیں حصول اراضیات بل کی سرعام مخالفت کی ہے انہوں نے کہا کہ کانگریس بھی مسلسل ان جماعتوں سے رابطہ میں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر رمیش نے تاہم کہا کہ وہ بیجو جنتادل کے نوین پٹنائک اور آل انڈیا انا ڈی ایم کے کی جئے للیتا سے میڈیا کے توسط سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ راجیہ سبھا میں اس بل کی مخالفت کریں اگر وہ واقعی کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کی سات حلیف جماعتیں جیسے اکالی دل اور شیوسینا بھی اس بل میں ترامیم کی مخالف ہیں۔ اور آر ایس ایس خود بھی ان ترامیم سے خوش نہیں ہے ۔ انہوں نے ان ترامیم کی مخالفت کیلئے کانگریس کی جوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے نتیجہ میں کسان ایک بار پھر سرمایہ دارانہ دور میں چلے جائیں گے اور وہ خود اپنی اراضی پر حقوق سے محروم ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اس بل میں پانچ اہم نکات پر مخالفت کی ہے اور اس بل پر احتجاج میں کوئی سیاست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اراضیات کے حصول کیلئے 80 فیصد کسانوں کی منظوری کو لازمی قرار دیا تھا لیکن بی جے پی حکومت ترامیم کے ذریعہ اس گنجائش کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT