Friday , January 19 2018
Home / سیاسیات / حصول اراضی قانون کی مزید سیاسی پارٹیوں کی مخالفت

حصول اراضی قانون کی مزید سیاسی پارٹیوں کی مخالفت

نئی دہلی 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام )متنازعہ حصول اراضی قانون مزید پیچیدہ ہوگیا جبکہ کئی سیاسی پارٹیوں نے اس کی مخالفت شروع کردی ۔ برسر اقتدار پارٹی کے ارکان بھی اپوزیشن کی مخالفت میں شامل ہوگئے ۔ کانگریس نے آج کہا کہ اس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ حکومت کے مسائل ختم نہیں ہوئے حالانکہ یہ قانون غور کیلئے مشترکہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے ۔ اب تک

نئی دہلی 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام )متنازعہ حصول اراضی قانون مزید پیچیدہ ہوگیا جبکہ کئی سیاسی پارٹیوں نے اس کی مخالفت شروع کردی ۔ برسر اقتدار پارٹی کے ارکان بھی اپوزیشن کی مخالفت میں شامل ہوگئے ۔ کانگریس نے آج کہا کہ اس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ حکومت کے مسائل ختم نہیں ہوئے حالانکہ یہ قانون غور کیلئے مشترکہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے ۔ اب تک صرف اپوزیشن پارٹیاں اس قانون کی مخالفت کررہی تھی لیکن اب نریندر مودی کی حلیف سیاسی پارٹیوں کے ارکان بھی اس مخالفت میں شامل ہوگئے ہیں۔ قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کا انکشاف کیا ۔ ان کے ساتھ لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے قائد ملک ارجن کھرگے بھی تھے ۔قبل ازیں 14 اپوزیشن پارٹیوں نے اس مسئلہ پر راشٹرپتی بھون تک جلوس نکالا تھا ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی اور نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کی زیر قیاد ت یہ جلوس نکالا گیا تھا ۔ غلام نبی آزاد اور ملک ارجن کھرگے نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پارلیمنٹ کی جانچ سے راہ فرار اختیارکررہی ہے ۔ کھرگے نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حقیقت کے جملہ 55 مسوادات قانون میں سے صرف 5 یا 6 مجلس قائمہ کے سپرد کردیئے گئے ہیں۔ یہ مسودات قوانین بشمول 4 مسودات کل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کئے گئے کل پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آخری دن تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT