Tuesday , August 21 2018
Home / جرائم و حادثات / حصول تعلیم کی خواہش مند لڑکی کی بڑی عمر کے فرد سے شادی کی مخالفت

حصول تعلیم کی خواہش مند لڑکی کی بڑی عمر کے فرد سے شادی کی مخالفت

پولیس سے عدم انصاف پر بالاہکولہ سنگم سے رجوع ، لڑکی گورنمنٹ ہوم منتقل
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : خواتین اور لڑکیوں پر مظالم کی روک تھام ہراسانی کے واقعات میں فوراً اقدامات اور تحفظ کے بلند بانگ دعوے کرنے والی پولیس کی قلعی پھر ایک بار کھل گئی ۔ ظالم والدین سے خود کو بچانے کی کوشش میں پولیس سے رجوع ہونے والی لڑکی کو نا امیدی کا سامنا کرنا پڑا ۔ لڑکی جس کی عمر 17 سال بتائی گئی ہے جو اعلی تعلیم حاصل کرتے ہوئے بینک عہدیدار بننا چاہتی ہے اس کو والدین ہی ہراساں کررہے ہیں ۔ اور زبردست ایک بڑی عمر کے آدمی سے اس کی شادی کروانا چاہتے ہیں ۔ لڑکی کی ہمت اور بالاہکولہ سنگم چائیلڈ رائٹس فورم کی مدد سے لڑکی ظالم والدین کے چنگل سے آزاد ہوگئی ۔ اس واقعہ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ شہر کے ہر علاقہ میں ہی کم عمر شادیوں اور زبردستی شادی کروانے کے واقعات پائے جاتے ہیں لیکن اکثر پرانے شہر کے واقعات منظر عام پر آتے ہیں تاہم 17 سالہ لڑکی کو گورنمنٹ ہوم منتقل کردیا گیا ہے ۔ 17 سالہ لڑکی گائتری نگر میر پیٹ علاقہ کے ساکن جوڑے سریش اور ونجا کی بیٹی بتائی گئی ہے ۔ ان دونوں نے اپنی بیٹی پر دباؤ ڈالتے ہوئے اسے ایک 35 سالہ شخص سے شادی طئے کروائی تھی جو پہلے ہی سے شادی شدہ تھا ۔ اس کی پہلی بیوی نے اسے چھوڑ دیا تھا ۔ جس کے بعد اس متاثرہ لڑکی کے والدین کو اس نے اپنا شکار بنایا تھا ۔ لڑکی نے بالاہکولہ سنگم کے صدر مسٹر اچیوت راؤ سے ملاقات کی اور اپنے بیان میں بتایا کہ وہ 3 ماہ سے پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹ رہی ہے ۔ جب وہ پولیس سے رجوع ہوتی ہے اس کے والدین بھی پہونچ جاتے ہیں ۔ اس لڑکی نے پولیس میر پیٹ پر الزام لگایا کہ پولیس نے اس کی درخواست پر کوئی توجہ نہیں کی اور تین ماہ سے ٹال مٹول کررہی ہے ۔ اس نے بتایا کہ مقامی افراد کے مشورہ پر وہ بالاہکولہ سنگم سے رجوع ہوگئی ۔ لڑکی اگر پولیس پر بھروسہ کرتی تو شاید اس کی شادی اس 35 سالہ شخص سے ہوجاتی چونکہ 24 نومبر کے دن اس کی شادی طئے پائی تھی ۔ مسٹر اچیوت راؤ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لڑکی کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت کرے اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کرے اور سخت کارروائی کو یقینی بنائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT