Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / حصول تلنگانہ کے سی آر کی جدوجہد کا نتیجہ

حصول تلنگانہ کے سی آر کی جدوجہد کا نتیجہ

حیدرآباد ۔17 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے قومی سکریٹری جنرل ڈاکٹر کیشو راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے حصول میں کانگریس قائدین کا کوئی رول نہیں ہے اور صرف کے سی آر کی قیادت میں جدوجہد کے نتیجہ میں تلنگانہ حاصل ہوا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیشو راؤ نے تلنگانہ کے حصول میں کانگریس قائدین کی دعویداری کو مسترد کردیا اور کہا کہ تل

حیدرآباد ۔17 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے قومی سکریٹری جنرل ڈاکٹر کیشو راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے حصول میں کانگریس قائدین کا کوئی رول نہیں ہے اور صرف کے سی آر کی قیادت میں جدوجہد کے نتیجہ میں تلنگانہ حاصل ہوا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیشو راؤ نے تلنگانہ کے حصول میں کانگریس قائدین کی دعویداری کو مسترد کردیا اور کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کانگریس کے قائدین کبھی بھی آگے نہیں رہے۔ انہوں نے اپنی کرسی اور وزارتوں کو ترجیح دی ۔ اس کے برخلاف ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں نے ایک سے زائد مرتبہ تلنگانہ کیلئے اپنے عہدے قربان کئے ۔

کیشو راؤ نے کہا کہ جب مرکزی حکومت نے تشکیل تلنگانہ کا فیصلہ کرلیا اس وقت تلنگانہ کانگریس قائدین اچانک متحرک ہوگئے۔ انہوں نے تلنگانہ کے حصول میں کانگریس قائدین کی حصہ داری کے دعوؤں کو محض دکھاوا قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ بیان بازی سے گریز کریں کیونکہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹی آر ایس کے سبب ہی تلنگانہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی صرف کے سی آر کی قیادت میں ممکن ہے اور ان کی قیادت میں مضبوط حکومت عوامی مسائل کی یکسوئی کو یقینی بناسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی قومی جماعتوں سے ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی جلگم وینکٹ راؤ اور پی مدھو کی ٹی آر ایس میں شمولیت سے پارٹی میں نیا جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے۔

اس موقع پر ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے کہا کہ پارٹی کیلئے عوام ہی ہائی کمان ہیں اور عوام کی خواہش کے مطابق ہی ٹی آر ایس نے تنہا انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کانگریس قائدین کے مخالف ٹی آر ایس بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس تلنگانہ عوام کے دلوں میں جاگزیں ہے اور عوام نہیں چاہتے کہ وہ کانگریس میں ضم ہو لہذا پارٹی قیادت نے تنہا مقابلہ کا فیصلہ کیا۔ کانگریس کے لئے دہلی میں ہائی کمان ہے جبکہ تلگو دیشم کیلئے سیما آندھرا قیادت ہائی کمان کی حیثیت رکھتی ہے لیکن ٹی آر ایس کیلئے عوام ہی ہائی کمان ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور تلگو دیشم کے سبب تلنگانہ عوام کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر تلگو دیشم چندرا بابو نائیڈو ریاست کی تشکیل کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT