Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / حصول رضائے الہی کے لئے اخلاص نیت ضروری

حصول رضائے الہی کے لئے اخلاص نیت ضروری

کریم نگر میں اجتماع برائے خواتین سے ڈاکٹر رضوانہ زریں کا خطاب

کریم نگر میں اجتماع برائے خواتین سے ڈاکٹر رضوانہ زریں کا خطاب
کریم نگر /24 اگست (راست) غریب نواز فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایس ایس گارڈن کریم نگر میں منعقدہ خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوانہ زریں پرنسپل و شیخ الحدیث جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ اخلاص نیت ہر عمل کے لئے ضروری ہے۔ تمام عبادات کے مقبول اور مردود ہونے کا دار و مدار نیت پر ہے۔ رضائے الہی کی نیت سے عبادت کرنے کو اخلاص اور دنیوی غرض کی نیت سے عبادت کرنے کو ریا کہتے ہیں۔ اخلاص کے ساتھ عبادت کی جائے تو مقبول ہے اور ریا کے ساتھ کی جائے تو مردود ہے۔ انھوں نے کہا کہ نماز، روزہ، حج اور زکوۃ ہی عبادت نہیں ہیں، بلکہ خورد و نوش، پوشاک و خواب، رفتار و گفتار، لین دین، شادی و غم کی جملہ تقریبات مسلمانوں کے لئے عبادت ہیں، بشرطیکہ ان کو اخلاص کے ساتھ کرے، جب کہ نام و نمود، خواہشات نفسانی یا دیگر دنیوی اغراض فاسدہ مقصود نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ عقلمند وہی ہے، جو اپنے اعمال و اقوال میں اخلاص کو مدنظر رکھ کر ان کو برباد ہونے سے بچائے اور وہ شخص احمق ہے جو ریا کے ہاتھوں ان کو برباد کردے۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالی کو اخلاص بے حد پسند ہے اور شیطان سے صرف مخلص لوگ ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ عمل کی فکر نہ کرو، بلکہ اس کی قبولیت کی فکر کرو، کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ ’’اپنے عمل کو خالص کرو تو تھوڑا بھی کافی ہوگا‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’تمام کاموں کا دار و مدار نیت پر ہے‘‘۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہوگی، ویسا ہی اجر ملے گا۔ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اخلاص والوں کے لئے خوش خبری ہو کہ وہ اندھیروں میں چراغ ہیں، ان کی وجہ سے سخت سے سخت فتنے دور ہو جاتے ہیں‘‘۔ اجتماع کا آغاز حافظہ سمیرہ خاتون کی قراء ت اور قاریہ خدیجہ فاطمہ کی نعت شریف سے ہوا، جب کہ اس اجتماع کی صدارت محترمہ ذکیہ صدیقی نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر غوثیہ شاہد معلمہ جامعۃ المؤمنات نے انجام دیئے۔ عالمہ عائشہ سمیہ نے عقائد صحیحہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کفر و ایمان کے فرق کو دلائل سے ثابت کیا۔ عالمہ سمیہ تبسم مؤمناتی نے کہا کہ خدا پر توکل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ ہر وہ کام جو اللہ تعالی کے بھروسے پر شروع کیا جاتا ہے، اللہ تعالی اس کو مکمل کرتا ہے۔ حافظہ سمیرہ خاتون نے کہا کہ اللہ تعالی غرباء و مساکین کے ساتھ ہمدردی فرماتا ہے اور مسلمانوں کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ اپنے صدقات اور عطیات کے ذریعہ غرباء و مساکین کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ انھوں نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غرباء و مساکین سے محبت فرماتے تھے اور دوسروں کو بھی ان سے محبت کے برتاؤ کا حکم دیتے۔ عالمہ رضوانہ خاتون مؤمناتی نے جھوٹ کے نقصانات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے منہ سے ایسی بدبو آتی ہے، جس سے اس کی حفاظت پر مامور فرشتے ایک میل دور ہو جاتے ہیں۔ جھوٹ کو ام الخبائث کہا گیا ہے۔ انھوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو جھوٹ سے بچائیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جھوٹ رزق کو روکتا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT