Saturday , July 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حصول رینکس کے لیے طلبہ پر ذہنی دباؤ ڈالنے والے کارپوریٹ کالجس کو انتباہ

حصول رینکس کے لیے طلبہ پر ذہنی دباؤ ڈالنے والے کارپوریٹ کالجس کو انتباہ

سرکاری کالجس میں داخلہ لینے طلبہ کو مشورہ ، وزیر تعلیم کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے رینکس کے لیے طلبہ پر ذہنی دباؤ بنانے والے کارپوریٹ کالجس کو سخت انتباہ دیتے ہوئے والدین کو کارپوریٹ کالجس کی چمک دمک سے متاثر ہو کر اپنی محنت کی کمائی اور طلبہ کا قیمتی وقت ضائع نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ انٹر میڈیٹ کے نتائج میں سرکاری کالجس ، کارپوریٹ و خانگی کالجس پر سبقت لیجانے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے بچوں کو سرکاری کالجس میں داخلے دلوانے پر زور دیا ۔ آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کڈیم سری ہری نے کہا کہ سرکاری کالجس میں زیر تعلیم طلبہ کو قومی مسابقتی امتحانات نیٹ اور جے ای ای کی کوچنگ دینے کے لیے ریاست بھر میں 26 خصوصی سنٹرس قائم کرتے ہوئے 3 ہزار طلبہ کو تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ان طلبہ کو قیام و طعام کی سہولت فراہم کرتے ہوئے کوچنگ پر 3.5 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ آئندہ سال کے تعلیمی آغاز سے ہی طلبہ کو نیٹ ، جے ای ای کی کوچنگ فراہم کرنے کی منصوبہ بندی تیار کی جارہی ہے ۔ جے ای ای اور نیٹ میں طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر انٹر میڈیٹ کا نصاب بھی تبدیل کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے ۔ گرمائی تعطیلات میں کلاسیس چلانے والے کالجس کی جانچ کرتے ہوئے ابھی تک 60 کالجس کو بند کردیا گیا ہے ۔ جانچ کا عمل ابھی جاری ہے ۔ حکومت نے 29 مارچ سے یکم جون تک کالجس کو تعطیلات کا اعلان کیا ہے ۔ سرکاری احکامات کا تمام کالج انتظامیہ کو احترام کرنا ضروری ہے ۔ جے ای ای اور نیٹ امتحانات کی کوچنگ دینے والے کالجس کو ہی کلاسیس چلانے کی اجازت دی گئی ہے ۔ ہاسٹلس چلانے کے لیے بھی بورڈ آف انٹر میڈیٹ سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے ۔ کالجس کی من مانی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ پی آر او کے ذریعہ انٹر داخلوں کے مناسب ثبوت نا ملنے پر مقدمات درج کرتے ہوئے کارروائی کی جارہی ہے ۔ انٹر امتحانات سے غیر حاضر رہنے والوں کے لیے امپرومنٹ کے نام سے کلاسیس چلانے کی بھی کسی کو اجازت نہیں ہے ۔ بچوں کے والدین بھی خانگی و کارپوریٹ کالجس میں تعلیم دلوانے کو سماجی رتبہ تصور کرنے کی غلطی نہ کریں کیوں کہ اس مرتبہ خانگی و کارپوریٹ کالجس سے بہتر سرکاری کالجس کے نتائج آئے ہیں ۔ اکیڈیمی کی منظوری حاصل کرتے ہوئے انٹر کی کلاسیس چلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ڈی ای اوز کو بھی ذمہ دار بنایا جائے گا ۔ گذشتہ تین سال سے سخت قوانین و قواعد پر عمل آوری کرنے سے 1500 کالجس بند ہوگئے ۔ حکومت کی جانب سے مزید سختی برتی گئی تو اضلاع حیدرآباد ، میڑچل اور رنگاریڈی میں 10 فیصد کالجس بھی باقی نہیں رہ پائیں گے ۔ کارپوریٹ و خانگی کالجس میں حکومت کے تیار کردہ قواعد کے مطابق سہولتیں ، پلے گراونڈس نہیں ہیں ۔ انہیں قواعد پر عمل کرنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے ۔ داخلوں کے دوران آدھار کارڈ کو مربوط کرنے کا لزوم قائم کرنے کے بعد تلنگانہ میں کئی ڈگری کالجس بند ہوگئے ۔ تعطیلات میں کلاسیس چلانے والے کالجس کی نشاندہی کرنے والے اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل میں 10 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ ایک کی منظوری پر دو کالجس چلانے کی تلنگانہ میں گنجائش نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT