Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

محمد قیام الدین انصاری کوثر

محمد قیام الدین انصاری کوثر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندانی نام عبد شمس تھا۔ ابھی بچے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ آپ ایک اہم قبیلہ کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام تبدیل کرکے عمیر رکھ دیا۔ اسلام لانے کے بعد دامن نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے وابستہ ہوئے کہ آخر دم تک ساتھ نہ چھوڑا۔ ’’ابوہریرہ‘‘ آپ کی کنیت تھی، جس کی وجہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک بلی پال رکھی تھی اور اس کو بے حد چاہتا تھا۔ بلی سے میری دلچسپی دیکھ کر لوگوں نے مجھے ابوہریرہ کہنا شروع کیا اور اصل نام پس منظر میں چلا گیا۔ آپ کی والدہ محترمہ بعد ازاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو علم کی بڑی جستجو تھی، آپ کا ذوق علم حرص کی حد تک پہنچ گیا تھا۔ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے میں جھجکتے نہیں تھے۔ اسلام لانے کے بعد متعدد غزوات میں شریک ہوئے اور اس کے بعد احادیث کی اشاعت میں مصروف رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں آپ کو بحرین کا عامل مقرر کیا گیا تھا۔
۵۷ھ میں مدینہ منورہ میں بیمار ہوئے اور بستر مرگ پر پیش آنے والے خطرات کو یاد کرکے روتے رہتے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہم سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر باش تھے‘‘۔ آپ خود فرماتے تھے کہ ’’اوروں کے مقابلے میں وہ احادیث زیادہ جانتے ہیں‘‘۔ آپ حدیثوں کے بارے میں بہت احتیاط سے کام لیتے اور جو کچھ سنتے اسے قلم بند کرلیتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا خاص وصف یہ تھا کہ اللہ تعالی نے آپ کو جس فیاضی سے علم کی دولت عطا کی تھی، اسی فیاضی سے آپ نے عامۃ المسلمین کے لئے اس کو وقف کردیا تھا۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، جہاں بھی کچھ مسلمان مل جاتے، ان کے کانوں میں اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہنچا دیتے۔

جمعہ کا دن نماز سے قبل کا وقت احادیث سنانے کے لئے مخصوص تھا۔ امام کے آنے تک آپ احادیث سناتے۔ آپ کے علم و عرفان کی بارش سے خواتین بھی سیراب ہوتیں۔ چنانچہ آپ کے زمرۂ روایت میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام بھی نظر آتا ہے۔ آپ کے دامن کمال میں جس قدر علمی جواہر تھے، سب عامۃ المسلمین میں تقسیم کردیئے گئے۔ عام تعلیمی لحاظ سے آپ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی جماعت میں بہت نمایاں تھے۔ عربی مادری زبان تھی، اس کے علاوہ فارسی پر بھی دسترس حاصل تھی۔ توراۃ کے مسائل سے کافی واقفیت اور لکھنے میں بھی کافی مہارت رکھتے تھے، اس طرح آپ نے احادیث کا ایک مجموعہ مرتب کیا تھا۔

خشیت الہی اور خوف قیامت سے لرزہ برانداز رہتے، خوف خدا اور قیامت کے احتساب کے ذکر پر چیخ مارکر بیہوش ہو جاتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو عبادت سے خاص شغف تھا۔ شب بیداری آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ عکرمہ راوی ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بارہ ہزار تسبیحیں روزانہ پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ بقدر گناہ تسبیح کرتا ہوں۔ حقوق العباد میں ایک بڑا حق یہ ہے کہ انسان مقدور بھر اپنے ضعیف اور سب سے بڑے محسن والدین کی خدمت گزاری کو باعث فخر اور ذریعہ نجات سمجھے۔ بناء بریں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس فریضہ کا لحاظ یہاں تک رکھا کہ والدہ کی تنہائی کے خیال سے ان کی زندگی میں حج نہیں کیا۔ (تذکرۃ الصحابہ)

نور ناصر
فکر آخرت کا نفع
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے‘‘۔ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ ہماری ایک بنیادی بیماری کا ذکر فرما رہا ہے اور وہ ایسی بیماری ہے، جو زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے لئے تباہی اور ہلاکت لانے والی ہے۔ بیماری کے ساتھ اس بیماری کا علاج بھی بتادیا اور پھر یہ بھی بتادیا کہ اس میں کیا خرابی ہے اور اس خرابی سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔

ہماری بنیادی خرابی یہ ہے کہ ہم ہر معاملے میں دُنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں، اسی کے دائرے میں رہ کر سوچتے ہیں اور اسی کی بھلائی، کامیابی اور خوشحالی ہر وقت ہمارے پیش نظر ہوتی ہے۔ ہم اس دنیا میں مکمل خوشی چاہتے ہیں، لیکن وہ کبھی حاصل ہونے والی نہیں ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے یعنی انبیاء کرام علیہم السلام جب اس دنیا میں تشریف لائے تو ان کو بھی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اس دنیا میں سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء پر آتی ہیں‘‘۔ اس کے بعد جو جتنا قریب ہوتا ہے انبیاء سے اتنی ہی آزمائشیں اس کے لئے ہوتی ہیں۔ ہم سب واقف ہیں کہ یہ دنیا عارضی ہے، ہم سب کو فنا ہونا ہے اور کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے، جو موت سے بچ سکے۔ پھر اس کے بعد کا معاملہ یہ ہے کہ جو ذرہ برابر بھی نیکی یا بدی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو جزا اور سزا دے گا۔

TOPPOPULARRECENT