Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

 

اﷲ تعالیٰ سورۃ الأحزاب میں ارشاد فرماتا ہے: اے ( رسول صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے ) اہل بیت ! بیشک اﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل ( اور شک و نقص کی گرد تک ) دور کردے اور تمہیں ( کامل ) طہارت سے نوازکر بالکل پاک صاف کردے ۔
(سورہ احزاب ، آیت : ۳۲)
مذکورہ آیت کریمہ میں اﷲ تعالیٰ نے اہلبیت کا ہرقسم کے رجس سے طاہر ہونے پر ضمانت عطا کردی۔
غرض کہ انہی نفوسِ قدسیہ سے پھلنے پھولنے والی ایک عظیم ترین شخصیت کا نام نامی امام علی زین العابدینؓ ہے ۔ آپؓ امام عالی مقام سیدنا حسین بن علیؓ کے شہزادے ہیں ۔ آپؓ کی ولادت باسعادت معروف روایت کے مطابق ۵؍ شعبان ۳۸؁ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی ۔
امام زین العابدین کا ذکر دورِ تابعین میں اہل مدینہ کے جو ساتھ بڑے اکابر علماء و فقہاء ہیں اُن میں اول فہرست آتا ہے ۔ آپؓ کی فہم و فراست کا کوئی اس دور میں ثانی نہ تھا ۔ آپؓ تمام عبادت گذاروں کی زینت ، اور اہل خشوع و خضوع کے لئے مشعل راہ تھے۔
امام علی زین العابدینؓ جب وضوء سے فارغ ہوتے اور نماز کا ارادہ فرماتے تو آپؓ کے بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا اور جسم کانپنے لگتا۔ لوگوں نے امام زین العابدینؓ سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپؓ کی ایسی حالت ہوجاتی ہے ۔ امامؓ نے جواب دیا کہ اے لوگو ! تم کیا جانو کے میں کس عظیم الشان دربار میں کھڑا ہونے جارہا ہوں جس کی وجہ سے میری یہ حالت ہے ۔ ( ابن کثیر ، البدایۃ والنھایۃ)
حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی خدمت میں تھے کہ امام حسینؓ داخل ہوئے تو حضورؐنے انھیں اپنی آغوش میں لے لیا اور حضرت جابرؓ سے فرمایا ’’اے جابرؓ! میرے یہ بیٹے حسینؓ کا ایک بیٹا ہوگا جس کا نام علیؓ ہوگا ، پھر اس کا ایک بیٹا ہوگا جس کا نام محمد ہوگا اور اس کا بیٹا علیؓ ایسا ہوگا کہ قیامت کے دن عرش الٰہی کے فرشتے اسے ندیٰ دیں گے کہ ’’اے سید العابدین اٹھیے اللہ آپؓ سے ملنا چاہتا ہے پس اُس کا بیٹا علیؓ اپنی مزار سے اس حال میں اْٹھے گا۔ جابر ! اگر تم میرے بیٹے علی بن حسین زین العابدینؓ سے ملو تو اُس تک میرا سلام پہنچانا‘‘۔ ( تاریخ دمشق الکبیر)

آپؓ کی عمر واقعۂ کربلا کے وقت ۲۳ سال تھی اور آپؓ شدید بیمار تھے جس کی بناء پر امام حسینؓ نے انہیں جنگ میں شریک ہونے سے منع فرمایا ، اور وہ خیمہ میں بستر پر ہی مرض میں لیٹے رہے ۔ یہ اﷲ کی عظیم حکمت تھی کہ امام حسینؓ کی نسل کو آگے بڑھایا جائے اور اس کا ذریعہ امام علی زین العابدینؓ کی ذات گرامی ٹھہری۔
آپؓ نے فرمایا : ’’جو لوگ اﷲ تعالیٰ سے ڈر کر عبادت کرتے ہیں، وہ عبادت غلاموں کی ہے ۔ جو لوگ اﷲ تعالیٰ سے کچھ غرض کی خاطر عبادت کرتے ہیں تو یہ تاجرین کی عبادت ہے اور جو لوگ اﷲ تعالیٰ ہی کے لئے ، اُس کی رضا و خوشنودی کیلئے عبادت کرتے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں جو شرفائے اُمت میں سے ہیں‘‘۔
امام زین العابدینؓ کی کثیر زندگی گریہ و زاری میں گذری کسی نے آپؓ سے اس کا سبب پوچھا تو آپؓ نے فرمایا یعقوب علیہ السلام کا ایک بیٹا گم ہوا تھا اور یہ بات واضح بھی نہ تھی کہ وہ زندہ ہے یا مرچکے ہیں اس کے باوجود یعقوبؑ یوسف علیہ السلا کی جدائی میں اتنا روئے کے نابینا ہوگئے ۔ جبکہ میرا حال یہ ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے کربلا میں اہلبیت کے (۱۴) چودہ افراد کو شہید ہوتے دیکھا ہے ۔ تم کیا چاہتے ہو کہ میں اس پر بھی نہ روؤں ۔
آپ کو آپ کے گریہ کے سبب امام البکائین بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ آپؓ کی ذات گرامی اکثر محو دعا ہوتی اور انہی دعاؤں کا ایک مجموعہ آپؓ کے شاگردوں نے مرتب کیا جو ہم تک پہونچا ۔
آپؓ نے ۲۵ محرم الحرام ۹۴؁ھ کو مدینہ میں وصال فرمایا۔
امام مالکؒ اور حضرت سعید بن مسیبؓ سے روایت ہے کہ آپ لوگ فرمایا کرتے کہ ہم نے امام علی بن حسینؓ سے بہتر کسی شخص کو نہیں پایا اور آپؓ جیسا عابد کسی کو نہیں دیکھا۔ آپؓ سے کثرت سے کرامات بھی ظاہر ہوئیں جن میں معجزاتِ رسول اکرم ﷺ کی جھلک ملتی ہے۔ جس سے امام زین العابدینؓ کا اپنے جدِّ کریمﷺ سے قوی ترین نسبت کا ثبوت ملتا ہے۔
بعض اصحاب عدم وقفیت کی بناء پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ امام علی زین العابدینؓ امام حسینؓ کی شہادت کے وقت ایک بچے تھے اور انھیں اپنے والد سے صحبت کا زیادہ وقت نہ ملا جس کے سبب سلاسل طریقت اُن سے کیونکر منسوب ہوسکتا ہے تو وہ یہ جان لیں کہ امام زین العابدین نے اپنے دادا حضرت علی بن ابو طالب کرم اللہ وجہہ کی دو سال صحبت پائی ہے اور اپنے تایا حضرت امام حسنؓ کی دس سالہ صحبت کا فیض اور والد گرامی امام حسینؓ کی کم و بیش تئیس(۲۳) برس کی صحبتیں ، خلوتیں اور جلوتیں تمام کی تمام شامل حال رہیں اور یہی نہی کہ جن کی طرف خاص طورپر رسولِ کائناتؐ نے سلام بھیجا ہو ، اس کی عظمتیں ، رفعتیں اور اس کے علوم و معارف کا اندازہ کون لگاسکے ۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں حُبِ اہلبیتؓ اور ان کی تعلیمات پر عامل بنائے اور ان کا ادب کرنے اور نقوشِ راہ پر گامزن ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ آمین (م ح س ا)

TOPPOPULARRECENT