Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حضرت امیر خسرو امن و یکجہتی و گنگاجمنی تہذیب کی مثال

حضرت امیر خسرو امن و یکجہتی و گنگاجمنی تہذیب کی مثال

حیدرآباد 23 نومبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ حضرت امیر خسرو کی یادگار کی تعمیر پر غور کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے آج تذکرۂ خسرو کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ سمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ اُنھوں نے امیر خسرو کو امن و یکجہتی و گنگا جمنی تہذیب کی مثال قرار دیتے ہوئے کہاکہ خسرو کی تعلیما

حیدرآباد 23 نومبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ حضرت امیر خسرو کی یادگار کی تعمیر پر غور کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے آج تذکرۂ خسرو کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ سمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ اُنھوں نے امیر خسرو کو امن و یکجہتی و گنگا جمنی تہذیب کی مثال قرار دیتے ہوئے کہاکہ خسرو کی تعلیمات پر صرف علماء و مشائخین کو ہی نہیں بلکہ سیاسی قائدین کو بھی عمل کرنا چاہئے۔ حضرت امیر خسرو نے اپنی شاعری کی ذریعہ جو نقوش چھوڑے ہیں اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس درجہ کے قابل ترین سخنور تھے۔ جناب محمد محمود علی نے حیدرآباد کو اولیاء کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہاکہ اِس سرزمین پر جشن خسرو کا انعقاد خوش آئند ہے اور مستقبل میں جشن خسرو کے انعقاد میں حکومت کی جانب سے بھی ممکنہ معاونت کی جائے گی۔ تذکرۂ خسرو کی افتتاحی تقریب میں مولانا خواجہ احمد نظامی سجادہ نشین بارگاہ خواجہ نظام الدین محبوب الٰہیؒ، پروفیسر خواجہ شاہد پرو وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، جناب مراد عمر اوگلو قونصل جنرل ترکی متعینہ ہند، ڈاکٹر سنینا سنگھ وائس چانسلر ایفلو، آقا مہرداد پہلوان نائب قونصل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد، مولانا مظفر علی صوفی، مولانا آل رسول قادری حسنین پاشاہ، مولانا سید جنید پاشاہ قادری زرین کلاہ کے علاوہ پروفیسر شاہد مجید، جناب ذاکر علی دانش اور دیگر موجود تھے۔ جناب محمد محمود علی نے اپنے خطاب کے دوران امیر خسرو کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کی تعلیمات کو عام کرنے پر زور دیا۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ خسرو کی تعلیمات کو عام کرتے ہوئے گنگا جمنی تہذیب، امن و آشتی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ جناب خواجہ شاہد نے اِس موقع پر اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ حضرت امیر خسرو نے اُس دور میں دینی و سیاسی اُمور میں تضاد پیدا نہ ہو اِس کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں وہ قابل قدر ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر آج کی خانقاہیں، بارگاہیں، درگاہیں آگے آتے ہوئے مثبت کردار ادا کریں اور خسرو کی تعلیمات پر عمل آوری کے ذریعہ دین اور سیاست کے درمیان پیدا شدہ تضاد کو دور کریں تو موجودہ سیاست میں موجود اخلاقی فقدان کو دور کیا جاسکتا ہے۔ جناب خواجہ شاہد نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ حالات کی تبدیلی کے لئے یہ ضروری ہے کہ خانقاہوں سے امیر خسرو جیسے مدبر اور سخنور تیار ہوں۔ چونکہ آج دنیا صوفی ازم کی سمت رغبت دکھارہی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ خانقاہیں جو کسی زمانہ میں درسگاہیں اور دانشگاہیں ہوا کرتی تھیں آج کیوں ایسے عشاق پیدا نہیں کررہی ہیں اِس بات کا محاسبہ کی ضرورت ہے تاکہ اسلاف کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم ترقی کرسکیں۔ جناب شاہد مجید نے اِس موقع پر اپنے خطاب میں کہاکہ ایرانی ادیب و شعراء کو اپنی فارسی گوئی پر ناز ہے لیکن اِس کے باوجود حضرت امیر خسرو کی فارسی ایرانی فارسی کا استعمال کرتے ہیں، اُس سے کافی بلند ہے۔ آقا مہرداد پہلوان نے اِس موقع پر کہاکہ حضرت امیر خسرو کے اشعار نے ہند ۔ ایران تہذیبی و ثقافتی تعلقات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نائب قونصل جنرل ایران نے حضرت امیر خسرو کو ہند ۔ ایران کی مشترکہ میراث قرار دیتے ہوئے کہاکہ حضرت امیر خسرو نے ہند ۔ ایران تہذیب و ثقافت کی نمائندگی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ جناب اکبر نیرومند چیف پبلک ریلیشن آفیسر قونصل جنرل ایران متعینہ حیدرآبادنے نائب قونصل جنرل کی تقریر کا ترجمہ پیش کیا۔ جناب مراد عمر اوگلو نے ہند ۔ ترکی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ حضرت امیر خسرو کے کلام نے ترکی اور ہندی کو قریب کیا ہے۔ اُنھوں نے تذکرۂ خسرو کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔ اِس موقع پر موجود مولانا فصیح الدین نظامی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ دن بھر جاری رہے سمینار کے دوران مختلف جامعات و دانشگاہوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے امیر خسرو پر مقالے پیش کئے۔

TOPPOPULARRECENT