Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت بحر العلوم رحمۃ اللہ علیہ

حضرت بحر العلوم رحمۃ اللہ علیہ

خواجہ معین الدین قدیری

بحر العلوم حضرت محمد عبد القدیر صدیقی حسرت رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۲۷؍ رجب المرجب ۱۲۸۸ھ کو محلہ قاضی پورہ میں اپنے نانا حضرت میر پرورش علی خاں صاحب کے مکان میں ہوئی۔ والد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، والد بزرگوار حضرت محمد عبد القادر صدیقی اور آپ کے ماموں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ رحمۃ اللہ علیہما نے آپ کو تعلیم دی۔ مدرسہ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مولوی اور منشی فاضل کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فنون سپہ گری میں مہارت حاصل کی، چنانچہ آپ لٹھ، تلوار، بنوٹ، کشتی اور بندوق چلانے کی لوگوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔
اللہ رب العزت نے آپ کو دو مرتبہ حج و زیارت کا شرف بخشا۔ آپ نے چار نکاح کئے، اس طرح آپ کے پندرہ صاحبزادے اور پندرہ صاحبزادیاں ہوئیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں آپ منفرد مقام رکھتے تھے۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کے پروفیسر اور صدر شعبۂ دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم مقرر ہوئے اور جامعہ کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے پیر طریقت حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ ہیں، جن سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
آپ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تفسیر قرآن مجید ہے، جو ’’تفسیر صدیقی‘‘ کے نام سے مقبول عام ہے اور طالبان علم کے لئے عام فہم ہے۔ آپ کی پچاس سے زائد کتابیں و رسائل ہیں۔ رسالہ مسئلہ عدم نسخ قرآن کی آخری گتھی کو سلجھانے کا سہرا آپ کے سر ہے، جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے، جس کی وجہ سے آپ کو بحر العلوم کہا جاتا ہے۔ فن حدیث میں عبور رکھنے کی وجہ سے آپ نے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف کتابیں لکھیں، جن کے مطالعہ سے ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تصوف و سلوک کے مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ تقریباً سو سال کی عمر میں ۱۷؍ شوال المکرم ۱۳۸۸ھ کو واصل بحق ہوئے۔ آپ کی آخری آرامگاہ ’’صدیق گلشن‘‘ بہادر پورہ میں ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT