Monday , February 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حضرت بدیل ؓنے نہایت کبر سنی میں شرف اسلام پایا

حضرت بدیل ؓنے نہایت کبر سنی میں شرف اسلام پایا

تادم آخر خدمتِ دین کا اعزاز ، آئی ہرک کاتاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اوردیگر کے لکچرس
حیدرآباد ۔19؍نومبر( پریس نوٹ) ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کی آب و ہوا میں اکثر مہاجرین صحابہ کرام بیمار پڑ گئے۔ کتب سیر میں حضرات ابوبکر، بلال، عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہم کے بخار سے بیمار ہونے کا خصوصی ذکر ملتا ہے۔ ایک مرتبہ یہ سب بخار کی تکلیف کی شدت سے کچھ کہے جا رہے تھے جس کا ان کو ہوش نہیں تھا۔ یہ لوگ اپنی مکی زندگی بیان کر رہے تھے اور مکہ کی گھاٹیوں اور چشموں کا ذکر کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بتایا گیا تو حضورؐ نے دعا مانگی کہ ’’ یا اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کو ایسا محبوب بنا دے جیسا کہ ہم مکہ سے محبت رکھتے ہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ‘‘۔ ’’اس کے صاع (پیمانہ) میں ہمارے لئے برکت پیدا فرما اور اس کی وباء اور تپ کو مہیعہ(جحفہ) کی طرف منتقل فرما‘‘۔رسول اللہؐ نے متعدد مواقع پر مدینہ منورہ کے لئے جو دعائیں کیں اور اس شہر پاک کے فضائل ارشاد فرمائے وہ کتب احادیث میں موجود ہیں۔نبی رحمتؐ نے بارگاہ خداوند تبارک و تعالیٰ میں عرض کیا کہ مدینہ منورہ میں اس برکت کی نسبت دو چند برکت عطا فرما جو تو نے مکہ مکرمہ کو عطا فرمائی ہے جن میں سے کچھ یہ ہیں۔ حضور ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’مدینہ منورہ کی شدت و محنت، تکلیف اور دشواری پر جو شخص صبر کرے گا(محض میرے جوار وقرب کی خاطر) میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا‘‘ ٭ ’’جس میں یہ استطاعت ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں (قیام پذیر رہے اور یہیں پر بالآخر) فوت ہو ، میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا‘‘ ٭’’مدینہ کی خاک جذام اور کوڑھ کے لئے موجب شفاء ہے‘‘٭’’مدینہ منورہ اسلام کا قبہ ہے اور ایمان کے لئے بہ منزلہ قلب کے ہے اور حلال و حرام کے درمیان حد فاصل اور موجب امتیاز ہے‘‘۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30 بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1278‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات ہجرت مقدسہ اور دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسول اللہؐ حضرت بدیل بن ورقاء ؓ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔مولانا مفتی سید محمد سیف الدین حاکم حمیدی کامل نظامیہ و معاون ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری مطالعاتی مواد پیش کیا۔پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا بعدہٗ انھوں نے انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا’1010‘ واں سلسلہ وار لکچر دیا۔ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوے ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت بتایا کہ خزاعہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے حضرت بدیل بن ورقاء کو قبول اسلام سے پہلے بھی بار ہا خدمت اقدس و عالیہ میں حاضری کا شرف ملا اورجب وہ دولت ایمان سے مالا مال ہوے تو پھر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لئے وقف ہو گئے۔ حضرت بدیل بن ورقاء نے فتح مکہ کے بعد شرف اسلام حاصل کیا اگر چہ کہ مسلمانوں کے حلیف ہونے کی حیثیت سے صلح حدیبیہ کے بعد سے وہ اکثر مدینہ منورہ آتے جاتے رہے تھے۔ ان کا سلسلہ نسب مازن بن خزاعی سے جا ملتا ہے ان کے دادا عمرو بن ربیعہ تھے۔ حضرت بدیل بن ورقاءؓ بڑی سلیم طبعیت کے مالک تھے اسلام قبول کر نے کے بعد ان کی تمام تر صلاحیتیں دین حق کے لئے وقف ہو چکی تھیں فتح مکہ کے بعد کے تمام معرکوں میں مجاہدانہ طور پر شرکت کی۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے کہا کہ ان کی قابلیت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث غزوات ما بعد فتح مکہ حنین و طائف میں انھیں مال غنیمت اور اسیر ان جنگ کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ خالص کے حقائق کے ساتھ محبت و وارفتگیٔ حبیب کبریاؐ سے مشرف و مالا مال تھے ۔ و نیز ان پر رسول اللہؐ کی توجہات خاص تھیں جس پر وہ مفتخر رہا کرتے ۔حضرت بدیلؓ بن ورقاء نے عہد رسالت ہی میں اس دار فانی سے کوچ کیا اور عمر کی 100 ویں منزل میں داخل ہو چکے تھے۔ وہ نہایت وجیہہ، مضبوط بدن، حسین و جمیل اور اس قدر بڑی عمر کے باوجود بڑی جاذب نظر شخصیت کے مالک تھے اور ان کے سر اور داڈھی کے تمام بال سیاہ تھے۔ حضور اکرمؐ نے انھیں دعا دی تھی کہ’’ اللہ تعالیٰ تمہارے جمال اور بالوں کی سیاہی میں برکت عطا فرماے‘‘۔ اجلاس کے اختتام سے قبل بارگاہ رسالت پناہیؐ میں تاج العرفاءؒ کے تحریر کردہ سلام کو پیش کیا گیا۔ ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’1278‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میں محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT