Saturday , December 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت بی بی دارمیہ الحجونیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا

حضرت بی بی دارمیہ الحجونیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا

تاریخ کے جھروکوں سے … مولانا حبیب عبدالرحمن بن حامد الحامد
حضرت بی بی دارمیہ الحجونیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ایسی خاتون تھیں جو فصاحت اور بلاغت میں درجۂ کمال پر فائز تھی۔حق بات کہنے میں کسی سے کوئی خوف نہیں تھا یہاں تک کہ حضرت امیرمعاویہؓ کی سطو ت اور قدرت کا بھی انھیں کوئی ڈر نہ تھا۔ اُن کی حاضر جوابی مشہور تھی۔کوئی بھی اگر آپؓ سے کوئی سوال کرتا تو بہترین طرز بیان کے ساتھ اسکا جواب سنتا تھا۔ آپؓ کا رنگ سیاہ تھا۔آپؓ کا تعلق قبیلہ بنی کنانہ سے تھا۔ قبیلہ بنی کنانہ مکہ کا ایسا قبیلہ تھا جس کا شمار امیر المومنین حضرت علیؓ کے شدیدچاہنے والوں میں ہوتا تھا۔ اس قبیلہ کی سکونت مکہ کی حجون نامی جگہ پر تھی ،آج بھی یہ محلہ اسی حجون نام سے باقی ہے۔ اسی محلہ میں جناب ابو طالب کا مشہور قبرستان جنۃ المعلًہ واقع ہے۔حضرت معاویہؓ کو اس شیر دل خاتون کے مردانہ کارناموں اور شجاعت بیان کی جب خبر ملی تو آپؓ مولائے کائنات کی چاہنے والی اس خاتون سے نزدیک سے ملاقات کرنے کے متمنی تھے ۔
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حج کیلئے مکہ معظمہ گئے ۔ وہاں آپؓ نے حضرت بی بی دارمیہ الحجونیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہ متعلق لوگوں سے دریافت کیا۔ لوگوں نے کہا وہ زندہ سلامت ہے ۔
حضرت امیر معاویہؓ نے آپؓ کو بلایا اور کہا ’’اے حام کی بیٹی ، جانتی ہوکہ میں نے تم کو یہاں کیوں بلایا ہے ؟ ‘‘۔
دارمیہؓ نے جواب دیا: ’’میرا حام (حام جناب نوح علیہ السلام کے فرزند تھے اور کہا جاتا ہے کہ انکا رنگ سیاہ تھا)سے کوئی تعلق نہیں ، مجھے کیوں بلایا ہے اس کا علم تو صرف اﷲ کو ہے ‘‘۔
امیر معاویہؓ نے کہا : ’’میں نے تمہیں یہ پوچھنے کیلئے بلایا ہے کہ تم نے حضرت علیؓ کا ساتھ کیوں دیا اور مجھ سے کیوں دشمنی رکھی ؟‘‘
دارمیہؓ : کیا آپ مجھے اس سوال کے جواب سے معاف نہ رکھیں گے ۔
امیر معاویہؓ : نہیں تمہیں میرے سوال کا جواب دینا ہوگا ۔
دارمیہ ؓ : آپ اگر اصرار کرتے ہیں تو میں بتلادیتی ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اس لئے دوست رکھتی تھی وہ رعیت سے انصاف کرتے تھے۔ سب کو استحقاق کے مطابق حقوق دیتے تھے ، مسکینوں سے محبت ، دینداروں کی عزت کرتے تھے اور آپ کی اس لئے مخالفت کی ( میری دانست کے مطابق) آپ افضل کے ساتھ اپنے اُس حق کے لئے لڑے جس کے مستحق نہ تھے ۔
امیرمعاویہؓ : تم نے حضرت علیؓ کا کلام بھی سُنا ۔
دارمیہؓ : کیوں نہیں ، خود اُن کی زبان سے سُنا ۔ جب وہ بولتے تھے تو دل کی گمراہی ایسے دور ہوجاتی تھی جیسے برتن کا زنگ زیتون کے تیل سے ۔
اسی طرح کئی سوال جواب ہوئے آخر حضرت معاویہؓ نے فرمایا : ’’اے دارمیہؓ ! تیری کوئی حاجت ہو تو بیان کر میں تیری کھری کھری باتوں سے بہت خوش ہوا ۔
دارمیہ ؓ : مجھے سو اونٹنیاں عنایت کیجئے جن کے ساتھ اُن کے چرواہے بھی ہوں ۔
امیرمعاویہؓ : ان کو لے کر کیا کروگی ؟
دارمیہؓ : بچوں کو دودھ پلاؤں گی بڑوں کو حیا دلاؤں گی اور ان کی وجہ سے قبائل میں شرافت کا درجہ پاؤں گی اور ان میں امن قائم کروں گی ۔
امیر معاویہؓ : اگر میں یہ تیری حاجت پوری کردوں تو تیرے دل میں میرے لئے علیؓ کے برابر جگہ ہوگی یا نہیں ؟
دارمیہؓ : آپ کے لئے بھی کچھ کم جگہ نہ ہوگی ۔
امیر معاویہؓ نے دو شعر پڑھے اور مبارکباد دی کہ تجھے اونٹنیاں مبارک ہوں اور یاد رکھ اس شخص کو جو عداوت کے جواب میں حسن سلوک کرتا ہے ۔ پھر کہا واﷲ اگر علیؓ ہوتے تو ان حالات میں ایک اونٹنی بھی تجھے نہ دیتے ۔
دارمیہؓ : ہاں ! خدا کی قسم یہ سچ ہے ۔ وہ مسلمانوں کے مال سے ایک پیسہ بھی نہ دیتے ۔ پھر امیر معاویہؓ کو دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT