Monday , January 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضرت جعفر رضی اﷲ عنہ

حضرت جعفر رضی اﷲ عنہ

مرسل : سید عزیر ہاشمی قادری

مرسل : سید عزیر ہاشمی قادری

یہ اولین مہاجر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ حضرت سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کے حقیقی بڑے بھائی تھے، جو آغاز اسلام میں ہی ایمان لے آئے تھے۔ ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی اسی زمانے میں مسلمان ہو گئی تھیں۔ سنہ ایک بعثت میں جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی اعلانیہ تبلیغ شروع کی تو کفار قریش نے مسلمانوں کو تنگ کرنا شروع کردیا اور ان پر اس قدر ظلم ڈھائے کہ سنہ پانچ بعثت میں مہاجرین حبشہ کے پہلے قافلہ کی روانگی کے کچھ عرصہ بعد ایک دن آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ’’یارسول اللہ! مجھے بھی ہجرت کی اجازت دی جائے‘‘۔ جس پر آپ نے فرمایا ’’تم بھی حبشہ چلے جاؤ‘‘۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق سنہ چھ بعثت میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ مہاجرین حبشہ کے دوسرے قافلہ میں شامل ہوکر حبشہ پہنچ گئے۔ بعض روایات کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی شاہ حبشہ کے نام حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق ایک خط بھی دیا تھا۔

کفار قریش نے نجاشی کے پاس اپنا ایک وفد بھیجا تھا، تاکہ ان مہاجرین کو واپس کردیا جائے۔ لیکن نجاشی نے صورت حال معلوم کرنے کے لئے جب مہاجرین کو اپنے دربار میں بلایا تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ان کے قائد ہونے کی حیثیت سے ایسی اثر انگیز تقریر کی کہ نجاشی پر رقت طاری ہو گئی۔ اس نے سفارتی وفد کو ناکام واپس لوٹا دیا، مہاجرین کی حفاظت کا بند و بست کیا، دل سے اسلام قبول کرلیا اور بھرے دربار میں کہا ’’مرحبا! اس ذات گرامی پر جس کی طرف سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ وہی نبی ہیں، جن کا ذکر انجیل میں آیا ہے، جن کی بشارت حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام نے دی ہے۔ تم لوگوں کا جہاں جی چاہے بلا کھٹک وہاں ٹھہرو۔ خدا کی قسم! اگر میں حکومت کے اس جنجال میں نہ پھنسا ہوتا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور ان کی جوتیاں اُٹھانے کی سعادت حاصل کرتا‘‘۔
آپ نے حبشہ میں ہجرت کے تیرہ سال گزارے۔ اس عرصہ میں بدر، احد اور احزاب کی جنگیں ختم ہو چکی تھیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حبش سے روانہ ہوئے اور جنگ خیبر کے دوران میدان جنگ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے، جب کہ خیبر کے تمام قلعے فتح ہو چکے تھے۔ انھیں یوں اپنے سامنے دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد خوشی ہوئی، بے اختیار انھیں گلے سے لگا لیا اور فرمایا ’’میں نہیں جانتا کہ مجھ کو خیبر کی فتح سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا (حضرت) جعفر کے آنے سے‘‘۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آنے والے دوسرے مسلمان مہاجرین سے بھی معانقہ فرمایا۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنگ موتہ کے لئے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی امارت میں لشکر اسلام کے ساتھ روانہ کیا اور فرمایا ’’اگر لڑائی میں زید شہید ہو جائیں تو جعفر امیر لشکر ہوں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ انصاری (رضی اللہ عنہم) امیر لشکر ہوں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو مسلمان جس کو چاہیں اپنا امیر بنالیں‘‘۔ یہ گویا ایک اشارہ تھا ان حضرات کی شہادت کا۔
جنگ موتہ کے دوران خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں مسجد نبوی میں اپنے صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ نے فرمایا ’’نشان (جھنڈا) لیا زید نے اور وہ شہید ہوئے۔ نشان لیا اب جعفر نے اور وہ شہید ہوئے۔ نشان لیا اب عبد اللہ بن روانہ نے اور وہ شہید ہوئے۔ نشان لیا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے اور اس کو فتح دی گئی‘‘۔ آپ پر رقت طاری ہو گئی اور فرمایا ’’یہ میرے بھائی، میرے مونس اور میرے جلیس تھے‘‘۔
حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ایک روز بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مجھے جبرئیل (علیہ السلام) نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالی نے جعفر کو ان کے کٹے ہوئے بازوؤں کے عوض دو نئے بازو عطا کئے ہیں، جن سے وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے پھرتے ہیں‘‘۔
آپ بہت خوبصورت اور وجیہہ آدمی تھے۔ صورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ’’جعفر! تم صورت اور سیرت دونوں میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو‘‘۔ اللہ تعالی آپ پر بے حد و حساب رحمتیں نازل فرمائے۔

تصویر کا بنانا؟
اسلام ایک سچا مذہب ہے۔ جوساری کائنات کا خالق اللہ کو مانتا ہے۔خدا وہ ذات ہے جو نہ کسی کا باپ ہے ، نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا شوہر ہے اور نہ اس جیسا کوئی ہے ،نہ اس کا کوئی رنگ ہے نہ اس کی کوئی شکل اورصورت ہے ۔وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیگا ۔اسی طرح حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
حضرت محمد ﷺ ۱۴۰۰ سال پہلے مکہ میں پیدا ہوے اور مدینہ میں آپ دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آرام فرما ہیں ۔ انہوں نے ساری دنیا کے لوگوں کو سچائی کی طرف بلایا اور دنیا میں امن اور امان قائم کیا اور پیار و محبت کی تعلیم دی۔
مذہب اسلام میں مورتی پوجا اور تصویر بنانا ایک بہت بڑا گناہ ہے ،حتی کہ اپنے ہی بزرگوں کی تصویروں کو بھی اپنے گھروں کی زینت بنانا نحوست تصور کیا جاتا ہے ۔
اسی لئے ہمارے رسول اکرم اور خدا کی آج تک کوئی تصویر ہمارے مذہب میں نہیں ہے، اس کے باوجود اگر کوئی ہمارے خدا یا رسول کی جھوٹی اور فرضی تصویر بناتا ہے تو وہ دین اسلام کی بہت بڑی توہین کرتا ہے جو ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ حال ہی میں ایک تلگو اخبار میں ہمارے آقا و مولا حضور اکرم ﷺ کی فرضی تصویر کی اشاعت پر عالم اسلام کے پیروکار مغموم ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسی گستاخانہ حرکت پھر نہ ہونے پائے اس سلسلے میں آئندہ مکمل احتیاط کی ضرورت ہے ۔
مولانا عبدالعلیم کوثر قاسمی

TOPPOPULARRECENT